یلاریڈی۔/14جون، ( محمد غوث علی خاموشی) ضلع نظام آباد کے حلقہ اسمبلی یلاریڈی میں منڈل لنگم پیٹ کے متوطن جناب عبدالستار احمد قادری مرحوم کے فرزند جناب محمد معین احمد قادری غریبوں کے مسیحا ہیں جو فی الوقت ہائی کورٹ وکیل ہیں۔ موصوف کو اللہ رب العزت نے دولت سے غیر معمولی نواز، اور انہوںنے اس کی مخلوق کی ہر طریقہ سے خدمت کرنے کا عزم کرتے ہوئے آج منڈل لنگم پیٹ اور اس کے مواضعات میں غریبوں کی بے لوث خدمت کررہے ہیں اور بلا لحاظ مذہب و ملت مخلوق کی مدد کرنا قابل تعریف جذبہ ہے۔ جناب معین احمد قادری اپنی لاکھ مصروفیت کے باوجود منڈل کی غریب عوام کو ہر ماہ امداد تقسیم کرنا نہیں بھولتے اور ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو لنگم پیٹ کے 200 غریب ہندو مسلم مرد و خواتین میں ایک لاکھ روپئے وظائف تقسیم کرتے ہیں سرکاری وظائف کب دیئے جائیں گے پتہ نہیں لیکن جناب قادری کے وظائف معمرین، بیواؤں، معذورین میں ہر ماہ بڑی پابندی کے ساتھ پہلی تاریخ کو دے دیئے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موصوف مستقر کے دینی درسگاہ جامعہ غوثیہ رضویہ لنگم پیٹ میں سرپرست اعلیٰ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے سالانہ نصف اخراجات کا ذمہ اپنے سر لے لیا ہے جو لاکھوں میں ہے۔ لنگم پیٹ کی جامع مسجد کی مرمت کرتے ہوئے خوبصورت میناروں کے ساتھ خوبصورب باب الداخلہ بھی جناب قادری نے ہی تعمیر کروایا۔مسجد قادریہ اور بھوانی پیٹ کی مساجد کی مرمت کیلئے پیش پیش رہے۔ غیر مسلم افراد کو بھی مذہبی معاملات میں دل کھول کر امداد کرتے ہوئے انہوں نے مثال قائم کررکھی ہے۔ جناب قادری ہر سال دسویں جماعت میں منڈل ٹاپر کو 20ہزار روپئے اور دوسرے مقام رہے طالب علم کو 10ہزار روپئے نقد انعام سے نوازکر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد عبدالستار احمد قادری صاحب مرحوم اور والدہ محترمہ دستگیر جہاں بیگم مرحومہ کے نام پر سرکاری اسکول کو 50ہزار روپئے کے بینچس بطور عطیہ اور 68ہزار روپئے سے اسکول میں اسٹیج تعمیر کروایا۔ لنگم پیٹ عید گاہ کی مرمت ، مختلف علاقوں میں اپنے ذاتی خرچ سے عوام کیلئے پانی کے بورویلس ڈلواکر اسے برقی موٹرس نصب کرواتے ہوئے عوام کو پانی سربراہ کروارہے ہیں۔ گورنمنٹ بوائز اسکول میں فرنیچر کیلئے ایک لاکھ روپئے بطور عطیہ دیا۔ جناب معین احمد قادری کی ان گنت سماجی، مدہبی، اخلاقی خدمات نے انسانیت کا سربلند کرکے کئی غیر مسلم معمرین انہیں بھگوان جیسا مانتے ہیں اور لرزتے ہوئے ہونٹوں سے انہیں دعائیں دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ شخصیت کسی سیاسی شہرت کیلئے کام نہیں کررہی ہے بلکہ صرف اور صرف انسانی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے غریبوں کی کفالت کررہے ہیں۔ ان سے ایسی خذمات ہر سال کرنے پر کہا کہ ماں سے جتنی محبت ہے اتنی ہی محبت اپنے آبائی مقام سے بھی ہے اور اپنے آبائی مقام کے لوگوں کی کثرت سے خدمت اور ہمدردی کرکے مجھے قلبی سکون ملتا ہے۔موصوف کو 2010ء میں 15محرم الحرام کو غسل کعبہ شریف کے بابرکت موقع پرشرکت کا بھی موقع حاصل ہوا۔ دنیا میں دولت مند بہت ہیں لیکن ایسے بہت کم لوگ ہیں جنہیں اپنی ترقی کے ساتھ غریبوں کی خدمت کا بھی خیال رہتا ہو ان کے لئے خدمت کا وقت رہتا ہو۔ اسی لئے دولت کمالینا کمال نہیں بلکہ کمال تو سخی ہونے میں ہے۔حکومت نے بھی ان کی بہترین سماجی خدمات پر انہیں ایوارڈ سے نواز ہے جو 10116 روپئے پر مشتمل تھا لیکن موصوف کی فراخدلی دیکھئے کہ ایوارڈ کی اس رقم میں دس ہزار روپئے شامل کرکے جملہ 20116 روپئے مشن کاکتیہ اسکم کو بطور عطیہ دے دیا۔ راقم الحروف کا مقصد یہاں پر کسی دولتمند کی تعریف کرنا نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کرنا ہے۔لنگم پیٹ منڈل کو جناب معین احمد قادری کی شکل میں وہ ہمدرد و خدمت گذار مل گیا ہے جس سے یہاں کے غریبوں کے چہروں سے مایوسی دفع ہوگئی ہے۔ غریب، مسکین افراد کا ایسے ہی ہر علاقہ میں ہمدرد اگر پیدا ہوجائیں تو پھر انسانیت کو ایک نئی قوت عطاء ہوگی۔