قاہرہ ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مصری حکام نے آج اخوان المسلمین کے ایک ممتاز رکن کو گرفتار کرلیا جنہوں نے موجودہ طور پر ممنوعہ گروپ اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ ایک سیکوریٹی عہدیدار کے مطابق آج صبح محمد علی بشر کو دریائے نیل کے علاقہ میں ان کے مکان سے گرفتار کیا گیا۔ یہ گرفتاری اس ماہ کے ختم پر مظاہروں کیلئے اپیل سے مربوط بتائی جارہی ہے۔ یہ ریالیاں کٹر اسلام پسند گروپ ’سلفی فرنٹ‘ نے منظم کرنے کی اپیل کی ہے نہ کہ اخوان نے۔ عجب نے جولائی 2013ء میں صدر محمد مرسی کی ملٹری کی جانب سے برطرفی کے بعد سے اخوان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ مرسی اس اسلام پسند گروپ کے کلیدی رکن ہیں۔ ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست مظاہروں کے بعد ملٹری نے مداخلت کی۔
مرسی ان ہزاروں اخوان اراکین میں سے ہیں، جنہیں اس کارروائی میں محروس کیا جاچکا ہے جبکہ سینکڑوں دیگر ہلاک کئے جاچکے ہیں۔ اس کے جواب میں ظاہر طور پر انتخابی حملوں میں مصر کے مختلف حصوں میں بم حملے دیکھنے میں آئے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ شدت پیدا ہورہی ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر خودکش بمباریوں میں پولیس اور ملٹری کو نشانہ بنایا جاتا ہے، وہیں چھوٹے حملوں میں جو گرینیڈس اور دیسی ساختہ دھماکو آلات سے کئے جاتے ہیں، ٹرینوں یا یونیورسٹیوں اور پولیس اسٹیشنوں کے قریبی مقامات زد میں آتے ہیں۔ آج قاہرہ کے بڑے رامسیس ٹرین اسٹیشن میں ایک گرینیڈ نے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کردیا ہے اور بھگدڑ مچ گئی جس میں 4 افراد زخمی ہوئے۔ ایک اور سیکوریٹی عہدیدار نے کہا کہ جنوبی قاہرہ کی نیلوان یونیورسٹی کے باہر ایک دیسی ساختہ بم سے دھماکہ کیا ہے جس سے 4 پولیس ملازمین زخمی ہوئے۔