مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب دوسری طاقتور فوج

دبئی ، 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مشرق وسطیٰ کے سینے پر اسرائیل کو ایک رسولی تصور کیا جاتا ہے ۔ نہ صرف عالم اسلام بلکہ دنیا بھر کے انصاف پسند عوام اسے اس کرہ ارض کی ایسی ناجائز مملکت قرار دیتے ہیں جو مسلسل عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتی رہتی ہے۔ اسرائیل کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے کافی عرصہ قبل ہی جوہری اسلحہ تیار کرلئے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے مغربی حلیف اس حقیقت سے واقف رہنے کے باوجود اس سے ایسے منہ موڑ لیتے ہیں جیسے انھیں یا اُن کی خفیہ ایجنسیوں کو اس بارے میں کوئی علم ہی نہ ہو ۔ اسرائیل نے اپنی تمام تر توانائیاں سائنسی و طبی تحقیق اور عصری ہتھیاروں کی تیاری پر مرکوز کر رکھی ہے ۔ اس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی کثیرمقدار ہے ۔ اس کے باوجود عالمی برادری مجرمانہ خاموش اختیار کئے ہوئے ہے۔ حال ہی میں بزنس اسٹانڈر نامی میڈیا ادارہ کی جانب سے کئے گئے جائزہ کی تفصیلات منظرعام پر آئی ہیں جس میں بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی فوج سب سے طاقتور ہے ۔ نیویارک میں کام کرنے والی اس بزنس اور ٹکنالوجی سے متعلق نیوز ویب سائٹ نے اپنے جائزہ میں مشرق وسطیٰ کی 15 طاقتور ترین افواج کی ایک فہرست پیش کی ہے اور ان ممالک کی درجہ بندی ، فوجی کارروائیوں کی صلاحیتوں ، ہارڈویئر ماہرین کے انٹرویوز وغیرہ کی بنیاد پر کی گئی ہے ۔ چینی خبررساں ایجنسی ژنہوا کی ایک رپوٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے ۔ اس اسٹڈی میں فوجی طاقتوں کے باعث علاقہ کے جغرافیائی و سیاسی ہیت پر پڑنے والے اثرات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ۔