ممبئی 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کردینے کے اپنے تبصرہ پر تنقید کا نشانہ بنے ہوئے سنجے راوت رکن پارلیمنٹ شیوسینا نے آج اپنا موقف برعکس کرتے ہوئے کہاکہ اُن کے تبصرے کی ’’غلط تاویل‘‘ کی گئی ہے، جس کے ذمہ دار ذرائع ابلاغ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ رائے دہی کا حق اقلیتی طبقہ سے چھین لینا غیر دستوری ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ (پارٹی کے ترجمان سامنا) میں، میں نے یہ نہیں تحریر کیا تھا کہ مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کردیا جانا چاہئے، میں نے صرف یہ کہا تھا کہ مسلمانوں کو سیاسی موقع پرستی کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ جہاں تک اُنھیں رائے دہی کا موقع نہ دیا جائے، اُنھوں نے کہاکہ مسلمانوں کو رائے دہی کے حقوق سے محروم کردینا غلط اور غیر دستوری ہے۔ سنجے راوت نے اورنگ آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ مسلمانوں کو اُن کے رائے دہی کے حقوق سے محروم کردیا جائے۔ ذرائع ابلاغ اُس دن کے لئے کچھ نہ کچھ خبر چاہتے تھے اور اُنھوں نے میرے بیان کی غلط تاویل کی۔ سنجے راوت نے اتوار کے دن سامنا کے ایڈیشن میں اپنی تحریر کے ذریعہ ایک طوفان اُٹھادیا تھا۔
اُنھوں نے اپنے تبصرہ میں مطالبہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کردینا چاہئے اور اقلیتی طبقہ کو ووٹ بینک کی حیثیت سے سیاسی پارٹیوں کو استعمال کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے آج کہاکہ ووٹ بینک سیاست ناانصافی کے خلاف جو مسلمانوں سے کی جارہی ہے، جدوجہد کے لئے استعمال نہیں کی جاتی۔ ان کی تعلیمی حالت اور صحت کے موقف کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ اگر ایک بار کانگریس نے ایسا کھیل کھیلا تھا تو آج ہر شخص اپنے آپ کو سیکولر قرار دیتے ہوئے یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر مسلمانوں کو اس طرح سیاست کے لئے استعمال کیا جاتا رہے تو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکیں گے۔ مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا جب تک کہ وہ ووٹ بینک سیاست کے لئے استعمال کئے جاتے رہیں گے اور بالا صاحب (شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے) نے ایک بار یہی تجویز پیش کی تھی۔