محبوب نگر۔ 12 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اعلیٰ تعلیم کونسل میں مسلمانوں کی شمولیت پر چندر شیکھر راؤ غیرسنجیدہ ہیں۔ ٹھیک اسی طرح حکومت تلنگانہ کی جانب سے نوتشکیل کردہ اعلیٰ تعلیم کونسل میں کسی مسلم اسکالر، پروفیسر یا پھر تعلیم داں کی عدم شمولیت کو ریاست کے مسلمانوں کے ساتھ ٹی آر ایس حکومت کی دوغلی پالیسی کا مظہر قرار دیتے ہوئے محمد تقی حسین تقی صدر ضلع کانگریس شعبہ اقلیت محبوب نگر نے ایک بیان میں ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اقلیتوں اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا دعویٰ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے متعلق غیرسنجیدہ ہے۔ شاید اسی لئے کونسل کی تشکیل میں مسلمانوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے اور نائب وزیراعلیٰ محمد محمود علی جنہوں نے اس خصوص میں چیف منسٹر کے سی آر کو منوانے میں ناکام ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیم کیلئے خصوصی منصوبہ کی ضرورت ہے۔ ہر حلقہ اسمبلی میں ایک اقلیتوں کے لئے اقامتی اسکول، ایک جونیر کالج ، ایک ڈگری کالج قائم کرنا چاہئے اور ضلعی سطح پر ایک پالی ٹیکنک کالج کا قیام کو ضروری قرار دیا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کے سی آر صرف مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے مختلف زبانی اعلانات کررہے ہیں۔ عملی اقدامات نہیں۔