مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کیلئے حکومت پابند عہد

ظہیرآباد /16 جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سابق ایم ایل سی و صدر ٹی آر ایس ضلع میدک آر ستیہ نارائنا نے کل یہاں شادی خانہ میں آل انڈیا مائنارٹیز ویلفیر اسوسی ایشن حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ شعور بیداری پروگرام کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مسلمان دیگر طبقات کے برابر ترقی کے یکساں ثمرات سے مستفید ہونے کے حقدار ہیں ۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کی آزادی کے 66 سال بعد بھی ملک کے مسلمان ترقی کے میدان میں دیگر طبقات کے مقابل سب سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔ جس کا انکشاف سچر اور رنگناتھ مشرا کمیٹی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی چیف منسٹر نے اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی مسلمانوں کو ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند کرنے کیلئے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے اور جس کی عمل آوری کیلئے ٹی آر ایس پابند عہد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان ہماری ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کی شناخت ہے ۔ اس کی برقراری کیلئے دسوری سرکاری زبان کا درجہ دیتے ہوئے اس کی ترویج و ترقی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تلنگانہ ریاست کے سرکاری لوگو میں اردو تحریر کو بھی شامل کرکے ٹی آر ایس کی زیر قیادت حکومت نے اپنی اردو دوستی کا پختہ ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے اردو میڈیم کے سرکاری اسکولوں وکالجوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے علاوہ کوہیر اور ظہیرآباد کے سرکاری دواخانوں کو بنیادی طبی سہولتوں سے لیس کرنے کیلئے حکومت سے نمائندگی کرنے کا یقین دلایا ۔ انہوں نے آل انڈیا مائناریٹیز ویلفیر اسوسی ایشن کے شعور بیداری پروگرام کو سرایا اور کہا کہ اس طرح کے پروگرام، اقلیتوں کو حکومت کی جانب سے شروع کردہ فلاحی اسکیمات سے استفادہ کرنے کی جانب رغبت دلانے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔ صدر آنلا انڈیا مائنارٹیز ویلفیر اسوسی ایشن جناب سید شمشاد قادری نے نئی ریاست تلنگانہ کا زمام اقتدار سنبھالنے پر ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کو مبارکباد دیتے ہوئے اقلیتوں کے بشمول دیگر طبقات کی بہبود سے متعلق قلمدان اپنے پاس رکھنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا ۔ انہوں نے آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کی بہبود کیلئے بجٹ مختص اور غیر منقسمہ آندھراپردیش میں اقلیتوں کیلئے مختص کردہ بجٹ کے غلط استعمال کے واقعہ کا اعادہ نہ ہونے کیلئے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے شروع کئے جانے والے روزگار پر مبنی اسکیمات سے استفادہ کرنے کیلئے بنکوں سے قرضہ جات کے حصول کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرنے کی بنکوں کو بھی ہدایت دینے کی شدید ضرورت ظاہر کی ۔ انہوں نے اسوسی ایشن کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسوسی ایشن ریاستی و مرکزی حکومتوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً اقلتیوں کی بہبود کیلئے شروع کی جانے والی اسکیمات سے اقلیتوں کو واقف کروانے کے علاوہ ان سے استفادہ کرنے کے طریقہ کار کی جانکاری بھی دے گی ۔ مزید براں اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے ملازموں اور وظیفہ یابوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے بھی کام کرے گی ۔ انہوں نے ریاست میں تمام فلاحی اسکیمات کی موثر عمل آوری کیلئے ایک نگہدادشت کمیٹی تشکیل دینے اور آر ٹی سی ملازمین کو ان کی سبکدوشی کے بعد سرکاری ملازمین کے مماثل وظائف منظور کرنے کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی ۔

انہوں نے وقف کمشنٹریٹ کے قیام کیلئے عاجلانہ اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے شعور بیداری پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر مقامی افراد کا تہہ دل سے شکدیہ ارا کیا ۔ صدر مائنارٹیز ویلفیر اسوسی ایشن ضلع میدک سید غوث محی الدین ، ٹی آر ایس قائدین ملکاپور شیو کمار ، گاؤن شیو کمار ، محمد یعقوب اور دوسروں نے بھی مخاطب کیا ۔ جناب حبیب الدین شکیل نے تلنگانہ پر اپنی نظم ستانی ، جناب ایم اے منان شوکت نائب صدر آل انڈیا مائنارٹیز ویلفیر اسوسی ایشن نے نظامت کے فرائض انجام دئے اور ان ہی کے اظہار تشکر پر شعور بیداری پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں محمد تاج الدین تاج ، سید غوث الدین ، محمد عبدالعلیم ، محمد مبشرالدین ، خواجہ معین الدین خان ، محمد عارف غوری ، سید شاہ رحمت اللہ قادری ، ایم اے نصیر ، سید یوسف الدین ، محمد قاسم علی ، محمد محبوب غوری ، اور دوسروں نے بھرپور تعاون کیا ۔ اس موقع پر سامعین میں قابل لحاظ تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں ۔ پروگرام کے افتتاح کے ومقع پر اسوسی ایشن کے عہدیداروںاور پروگرام میں شریک ٹی آر ایس قائدین کی شالپوشی و گلپوشی کی گئی ۔