نظام آباد۔ 14 اپریل(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سابق رکن پارلیمنٹ وکل ہند کانگریس ترجمان مسٹر مدھو گوڑ یاشکی نے کل پولیس تحویل میں فوت ہونے والے نظام آباد کے ناگارام سے تعلق رکھنے والے شیخ حیدر کے افراد خاندان سے ملاقات کی اور انہیں مالی امداد فراہم کیا ۔ مسٹر مدھوگوڑ یاشکی نے کل نظام آباد دور ہ کے موقع پر کانگریس اقلیتی قائدین ایم اے قدوس کارپوریٹر، سید نجیب علی ایڈوکیٹ،مولانا کریم الدین کمال، صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس سمیر احمدو دیگر قائدین کے ہمراہ شیخ حیدر کے مکان پہنچ کر ان کے والد شیخ بابو، بہن اجمیری بیگم اوران کے بھائی شیخ احمد سے ملاقات کی اور تفصیلات حاصل کیا۔ مسٹر مدھوگوڑ یاشکی نے مرحوم شیخ حیدر کے خاندان کے حالات کو دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا بعدازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حیدر کے موت کے ذمہ دار عہدیداروں کو معطل کرنے کے مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ ان کیخلاف دفعہ302 درج کرنے اور اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیق کرنے اور انہیں حکومت کی جانب سے ایکس گریشیاء اور مکان تعمیر کرکے دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے آئے دن مسلمانوں پر ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزاور ریاست میں فرقہ پرست سرکاریں حکومت کررہی ہیں۔ ریاستی ٹی آرایس حکومت مودی حکومت کی تائید حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کو انکائونٹر کے نام پر ہلاک کیا ہے۔ مسٹر چندر شیکھر رائو وزیر اعظم نریندر مودی کو بہترین وزیر اعظم کی حیثیت سے خطاب دیتے ہوئے اپنے فرقہ پرست ذہنیت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ چندر شیکھر رائو مرکزی کابینہ میں شمولیت کیلئے کوشاں ہیں اور ان دونوں کے درمیان خفیہ طور پر معاہدہ ہوچکا ہے اور مہاراشٹرا گورنر نریندر مودی و چندر شیکھر رائو کے درمیان درمیانی شخص کا رول ادا کررہے ہیں۔ اوراسی کے تحت مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیرمین کی جانب سے چار بچوں کو پیدا کرنے کے بیان پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا۔شیو سینا کی جانب سے دئیے گئے بیان پر بھی زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو حق رائے دہی سے کوئی بھی محروم نہیں کرسکتا۔ شیو سینا بی جے پی قائدین وقفہ وقفہ سے اس طرح کے بیان بازیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیںاور وزیر اعظم کی خاموشی معنی خیز ہے۔ بی جے پی گھر واپسی کے نام پر مسلمانوں کو ملک بھر میں ہراسانی کا سلسلہ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی 14 فیصد آبادی ہے اور انہیں دستور کے تحت تمام حقوق حاصل ہوتے رہیں گے۔ ان کے حق سے کوئی بھی محروم نہیں کرسکتا۔انہوں نے مجلس اتحاد المسلمین و ٹی آرایس کے اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گریٹر میونسپل کارپوریشن حیدر آباد کے انتخابات میں مجلس ٹی آرایس کے ساتھ اتحاد کرنے کی صورت میں فرقہ پرست طاقتوں کو فوقیت حاصل ہوگی اور سیکولر طاقتوں کو نقصان ہوگا لہٰذا مزید اس کا محاسبہ کریں تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے مرکزی مودی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے یہ کہا کہ مودی فرقہ پرست تحریک کے حامل ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ گجرات میں عشرت جہاں کے انکائونٹر کے واقعہ میں عدالت اور انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے کئے گئے فیصلہ سے انہیں کوئی اثر نہیں ہوا اور عدلیہ پر بھی اثر و رسوخ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مسلم تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ایک دستور کے تحت مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کیا ہے انہوں نے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے 10ماہ کا عرصہ ہونے کے باوجود بھی اب تک کوئی اقدام نہیں کیا۔ وعدہ خلاف کا الزام عائد کرتے ہوئے وقف جائیدادوں کے تحفظ دیگر فلاحی کاموں کو انجام دینے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا۔ مسلمانوں کو شادی مبارک اسکیم کے سوا دیگر کوئی بھی اسکیم سے فائدہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔