مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی پر اعتراض

نندیال 16 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)وشوا ہندو پریشد سورن جینتی اتسوس سے تعلق اجلاس نندیال میں منعقد ہوا ۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے وی ایچ پی لیڈر پروین توگاڑیہ نے جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صرف مسلمان ہی غریب نہیں ہندو بھی ہیں۔ اس لئے صرف مسلمانوں کو ہی ریزرویشن کیوں؟ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کی پالیسی جو مسلمانوں کو 12 فیصد ریزرویشن کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تلنگانہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد ریزرویشن دیں تو ہم اس کے خلاف ایک مہم چلائیں گے یا کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔ ہندوئزم کو بچائے رکھنے کیلئے سبھی ہندوؤں کو ایک ہونا چاہئے ۔ ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان میں صرف ہندو ہی تھے ۔ وید بھومی میں دوسری ذات کے لوگ نہیں صرف ہندو ہی رہا کرتے تھے لیکن آج دنیا کی 700 کروڑ کی آبادی میں ہندو صرف ایک سو کروڑ ہیں ۔ دنیا کے سبھی حصوں سے پڑھائی کیلئے طالب علم ہندوستان آیا کرتے تھے لیکن زمانے کے بدلاو سے آج ہندوستانی پڑھنے کیلئے امریکہ جارہے ہیں۔ ہندوستان کے ہر غریب بچے کو وشواہند پریشد کی جانب سے مفت کھانے پینے اور بڑھنے کا انتظام کرے گی ۔ ہندوستان میں ایک بھی ہندو غریب لڑکا پڑھائی سے دور نہیں رہے گا اس کیلئے سبھی ہندووں سے اپیل کی کہ ہر ایک ہندو ایک مٹھی چاول اور ایک روپئے ہر روز نکالا کریں۔ اس پورے دیش کے لوگ ایسا کریں گے تو ہمارے پاس بھاری رقم جمع ہوگی جس سے ہندو بھائیوں اور بچوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ اگر ہندو غریب رہیں گے تو کچھ نہیں کرپائیں گے اس لئے سبھی ہندو بھائیوں سے اپیل ہے کہ ہندوستان کے سبھی ہندو ایک جٹ ہوجائیں ۔ توگاڑیہ کی ہندی تقریر گاویاس راج نے تلگو میں ترجمہ کیا ۔ اس اجلاس میں شہر کے سینکڑوں لوگ موجود تھے ۔ شہر کے میونسپل چیر پرسن دیشم سلوچنا ،وی ایچ پی کے صدر وائی ایس ریڈی،دشرتھ رامی ریڈی، اچل پورنا نندسوامی سری رنگانادھا سوامی و دیگر خواتین بھی موجود تھے ۔