محبوب نگر میں منعقدہ اجلاس سے پروفیسر کودنڈا رام کا خطاب
محبوب نگر /17 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ ریاست کے قیام کے ایک سال بعد بھی ریاستی عوام کے چہروں پر خوشی کی لہر نظر نہیں آرہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر کودنڈا رام نے محبوب نگر میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ تمام طبقات کی ترقی تلنگانہ ریاست کی ترقی میں مضمر ہے اور تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق ملنا چاہئے، بالخصوص پسماندہ طبقات اور غریب مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس تحریک کو مزید تقویت دینے کے لئے ایک انقلاب لانے کی ضرورت ہے، جہاں تک تحفظات کا تعلق ہے، موجودہ حکومت نے عام انتخابات سے قبل اپنے منشور میں 12 فیصد تحفظات دینے کا اعلان کیا تھا، جس پر عمل آوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ دستور کے تحت تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، جس کا ثبوت دفعہ 15/4 اور 16/4 میں واضح طورپر ملتا ہے، جس کے تحت ریزرویشن دیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں کئی کمیشنوں نے غریب مسلمانوں کے تحفظات کے ضمن میں رپورٹس بھی پیش کی ہیں، لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ دستور کے نکات پر گامزن رہے۔ انھوں نے تلنگانہ کے سیاسی و سماجی قائدین اور شہریوں کو مشورہ دیا کہ غریب مسلمانوں کے تحفظات کو مذہبی پہلو سے نہ دیکھا جائے، بلکہ حقائق کو سامنے رکھ کر اس پر عمل آوری کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے تحفظات کی جدوجہد میں جے اے سی شانہ بہ شانہ شامل رہے گی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسرز حنیف احمد اسٹیٹ ایم آر یو ایف کنوینر، ٹی جے سی چیرمین راجندر ریڈی، تلنگانہ لکچررس فورم ستیش ریڈی، پرجا فرنٹ اسٹیٹ چیرمین مدی لیٹی، ٹیچرس فیڈریشن اسٹیٹ وائس پریسیڈنٹ آڈمس، پرجا فرنٹ کوآرڈینیٹر بچا ریڈی، پرمٹی چنا وغیرہ نے غریب مسلمانوں کی ریزرویشن تحریک کو تقویت پہنچانے پر زور دیا۔ اس موقع پر اقلیتی قائدین مسرز جابر بن سعید ایم ایم ایف صدر، محمد بشیر الدین پرنسپل المدینہ کالج آف ایجوکیشن، محمد اکبر الماس صدر حج کمیٹی، رحمن صوفی نائب صدر حج کمیٹی، نورالحسن، سعادت اللہ، خواجہ معین الدین، عمران الحق، سرور، بدیع اللہ بیگ، خالد نوید، فاروق اور دیگر نے شرکت کی اور سب نے تحریک کو تقویت پہنچانے کا تیقن دیا۔ اجلاس کی صدارت ظفر اللہ صدیقی نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض مظہر شریف نے انجام دیئے۔