نئی دہلی۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) این ڈی اے حکومت سے مسلمانوں میں احساس صیانتی پیدا کرنے کی خواہش کرتے ہوئے انڈین یونین مسلم لیگ کے قائد ای احمد نے آج کہا کہ این ڈی اے حکومت کو جب بھی فرقہ وارانہ تشدد کا ملک بھر میں کہیں بھی واقعہ پیش آتا ہو، فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ وہ صدرجمہوریہ کے خطاب پر لوک سبھا میں تحریک تشکر پر مباحث میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے نریندر مودی حکومت کی تائید کرنے کا اپنی پارٹی کی جانب سے تیقن دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ضروری ہو، ایسا کیا جائے گا لیکن جب بھی مخالفت کی ضرورت ہوگی، مخالفت بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد مسلمانوں کی اکثریت میں خوف کی نفسیات پیدا ہوگئی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسا اقدامات کرے جس سے مسلمانوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوجائے۔ ترقی کے علاوہ ایسے اقدامات بھی ضروری ہوں گے۔ ای احمد نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں اور حکومت کو ایسے واقعات کو ابتدائی مرحلے میں ہی کچل دینے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ پونے میں ایک نوجوان مسلم ماہر ٹیکنالوجی کے قتل پر فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے کیرالا کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ایسے بدبختانہ واقعات ہندوستان میں نہیں ہونے چاہئیں جو رواداری کی شاندار روایات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی ایسے واقعات پر تشویش ہونی چاہئے اور فوری کارروائی کرنی چاہئے تاکہ اقلیتوں کو نشانہ نہ بنایا جاسکے۔ ’اپنا دَل‘ کے رکن انوپریہ پٹیل نے حکومت سے خواہش کی کہ یوپی کی ترقی کیلئے کافی اقدامات کئے جائیں جو انتہائی پسماندہ ریاست ہے۔ کانگریس رکن ایم آئی شاہنواز نے کہا کہ انہیں ’سکیولرازم‘ اور ’دستور‘ جیسے الفاظ کے صدر کی تقریر میں استعمال پر الجھن ہے اور حیرت ہے کہ یہ حکومت کا منشاء تھا کہ ان دو کلیدی الفاظ کو استعمال کیا جائے، جن کا تذکرہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں نہیں تھا۔