یروشلم۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) فلسطین کے دو نوجوانوں نے جو کلہاڑی، چاقو اور بندوقوں سے لیس تھے، یہودی عبادت گاہ ’صومعہ‘ میں گھس کر 4 اسرائیلیوں کو ہلاک کردیا۔ اس حملے میں 8 دیگر زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہونچانے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی پولیس کے ترجمان لبیٰ سمری نے بتایا کہ دو دہشت گرد پڑوسی حرنوف میں واقع صومعہ میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے ایک کلہاڑی، ایک چاقو اور ایک بندوق سے حملہ کردیا۔ چار یہودی ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہاں پہنچ کر دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ دونوں حملہ آور حراؤ شمعون اگاسی اسٹریٹ پر چل پڑے جہاں یہودی عبادت گاہ اور یہودی قبرستان ہے۔ انہوں نے ایک سے زائد مقامات پر حملے کئے ہیں۔ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چار زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس حملے کے بعد عبادت گاہ کی جو تصاویر دکھائی گئی، ان میں فرش پر ہر طرف خون نظر آرہا تھا۔ راحت کاری خدمات فراہم کرنے والے شعبہ کے ترجمان ذکی ہیلر نے کہا کہ زخمیوں کو مختلف کمروں میں لے جایا گیا اور نیم طبی عملہ نے پہنچ کر انہیں ابتدائی طبی امداد بہم پہنچائی۔
زخمیوں کو فوری ایمبولینس کے ذریعہ ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ نتن یاہو نے اس حملے کو ’یہودیوں کا ظالمانہ قتل‘ قرار دیا جو عبادت کیلئے آئے تھے۔ وزیراعظم اسرائیل نے کہا کہ یہ حملہ حماس دہشت گردوں اور صدر فلسطین محمود عباس کے اُکسانے کا نتیجہ ہے جسے دنیا نے نظرانداز کیا۔ فلسطینی ذرائع نے حملہ آوروں کا نام رسان اور ادے ابو جمال بتایا۔ خبر رساں ایجنسی شہاب جو حماس سے مربوط ہے، عینی شاہدین کے حوالے سے کہا کہ اس حملے کے بعد اسرائیلی سکیورٹی فورسیس نے جبل مکبر کا ہر طرف سے محاصرہ شروع کردیا تھا۔ حماس نے کہا کہ یہ حملہ مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی جرائم کا جواب ہے اور اپنے حامیوں پر انتقامی سرگرمیاں جاری رکھنے پر زور دیا۔ حماس کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ بس ڈرائیور یوسف حسن الرومانی کی موت کا یہ جواب ہے۔ یہ بس ڈرائیور یروشلم کے بس ٹرمنل میں لٹکتا ہوا پایا گیا تھا۔ اس دوران صدر امریکہ بارک اوباما نے ایک بیان میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقین اور عوام کو بھی تشدد کی مذمت کرنی چاہئے ۔