قاضی پیٹ۔/15فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کا یہ ایقان ہے کہ اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ہیں، اس کے باوجود ان جائیدادوں پر غیروں کے ساتھ اپنوں کا بھی قبضہ ہے۔ جس کے خلاف اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال نے موثر اور سخت اقدامات کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ اگرچیکہ درگاہوں اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں میں اقرباء پروری اور من مانی کی عام شکایت ہے اور کمیٹی کے ذمہ داروں کا رویہ بعض اوقات امام اور موذن کے ساتھ غیر شائستہ ہوتا ہے۔ لیکن مسجد ایوان شاہی صوبیداری ہنمکنڈہ کے امام صاحب کو عرصہ دراز سے ہراساں و پریشان کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور انہیں امامت کے منصب سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس پر انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تب جاکر عدالت نے اس بات کی ہدایت دی کہ مسجد کمیٹی کی جانب سے انہیں امامت سے نہ ہٹایا جائے اور نہ ہی انہیں ہراساں کیا جائے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ جب تک ان کی سانس باقی رہے گی اسوقت تک یہ اسی مسجد میں امامت کریں گے اور اپنی تنخواہ حاصل کرتے رہیں گے، یہ میری لڑائی نہیں بلکہ منصب امامت کے تقدس کا مسئلہ ہے جبکہ 10برسوں سے امامت کرنے پر انہیں آخر کیوں تنخواہ نہیں دی جارہی ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ مسجد کمیٹی نے انہیں تنخواہ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ مسجد کمیٹی نے گذشتہ دس برسوں سے حساب کتاب پیش نہیں کیا ہے
جبکہ مسجد ایوان شاہی بڑی مسجد کو وقف بورڈ سے ایک ایکر 50 گنٹے اراضی منظور کی گئی تاہم آج یہاں پر 23سے زائد ملگیاں تعمیر کی گئی ہیں جہاں تاجرین دکانات، ہوٹلس وغیرہ کا کاروبار چلارہے ہیں۔ جبکہ ان تاجرین سے کمیٹی کو لاکھوں روپیوں کا بجٹ حاصل ہوتا ہے لیکن وقف بورڈ میں کوئی رقم جمع نہیں کی جارہی ہے نہ ہی وہ امام کو تنخواہ اور مسجد کی ترقی کیلئے خرچ کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں کوئی مصلی ان سے سوال کریں گے تو انہیں کمیٹی کی جانب سے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں نمائندہ ’سیاست‘ شاہنواز بیگ سے بات چیت کرتے ہوئے صدر وقف بورڈ کمیٹی محمد امجد خان، جناب محمد مقصود احمد ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے علاوہ امام و خطیب نے اس کمیٹی پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کو برطرف کرنے کیلئے کوئی بھی کارروائی نہیں کی جارہی ہے کیونکہ حیدرآباد کی ایک مشہور شخصیت اس کمیٹی کا ساتھ دے رہی ہے اسی وجہ سے کمیٹی کو تبدیل نہیں کیا جارہاہے۔ اس سلسلہ میں اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو ایک یادداشت دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ بہت جلد مذکورہ شکایتوں کی تحقیقات اور کارروائی کی جائے گی۔