عمان۔16نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) اردن نے مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور اس کی نگرانی اپنے دمہ لینے کی مساعی کا آغاز کردیا ہے ۔ بیت المقدس پر اسرائیل کی بدنگاہی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اردن نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے تقدس کو برقرار رکھنا اور اس کی نگرانی کیلئے ذمہ داری حاصل کرنے کوشاں ہے ۔ اس مقام کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ اس علاقہ کو اپنے قبضہ میں لیا جائے ۔ اسرائیل سے اپنے سفیر کی طلبی کے ذریعہ اردن نے یہ پیام دیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے اندر پولیس کی تعیناتی کے ذریعہ اسرائیل نے اپنی حدوں کو پار کرلیا ہے اس لئے اردن نے اس ملک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو منقطع کرلیا ۔ اس کے متوازی اقدام میں شاہ عبداللہ ثانی نے سفارتی میزبانی کرتے ہوئے عمان میں امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری اور اعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو کے درمیا ن بات چیت کا اہتمام کیا تھا ۔ عمان کے القدس مرکز برائے سیاسی تعلیمات کے سربراہ اوریب انٹنوئی نے کہا کہ اردن کے سفیر کی طلبی اور سفارتی روابط کو منقطع کرنے کا مطلب اسرائیل کو ایک سخت پیام دینا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے تقدس کی پامالی امن معاہدہ کیلئے خطرناک ہوگا ۔
جان کیری نے اپنے مصروف ترین دورہ کے دوران مذاکرات کیلئے وقت نہیںنکالا تھا لیکن جب واشنگٹن کو یہ محسوس ہوا کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ابتر ہورہے ہیں اور اسرائیل و فلسطین روابط نازک مرحلہ پرپہنچ گئے ہیں تو اس نے جان کیری کو مشرق وسطیٰ روانہ کیا ۔ بیت المقدس کے تعلق سے اسرائیل کا موقف اسرائیل۔فلسطین جن میں سب سے حساس اور نازک مسئلہ ہے ۔ مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں یہودی پولیس کی فلسطینیوں پر کی جانے والی زیادتیوں سے یہ مسئلہ سنگین بنتا جارہا ہے ۔ مسجد الاقصیٰ کے تقدس کو پامال کرنا قابل برداشت حرکت نہیں ہے ‘ اس لئے اردن نے مسجد اقصیٰ کی نگرانی اپنے فیصلہ میں لینے کی کوشش شروع کی ہے ۔ مسجد کی خدمت و نگہبانی کیلئے وہ اپنی طاقت و صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا ۔ قبلہ اول کی بے حرمتی کے نتیجہ میں اردن کے عوام الاس میں غم و غصہ بھڑک اٹھے گا جس سے اردن کے استحکام و سلامتی کو خطرہ پیدا ہوگا ۔ اردن نے 1994ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا کیونکہ اردن میں دو ملین فلسطین پناہ گزین مقیم ہیں اور یہ علاقہ فلسطینی خطہ کے اردنی باشندوں کا مرکز بھی ہے ۔