سنگاریڈی۔/9جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے ماہ رمضان المبارک میں مساجد کی صاف صفائی اور دیگر آہک پاشی کاموں کیلئے تلنگانہ کے 10اضلاع کیلئے 5کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ رمضان المبارک کے دس دن گذر چکے ہیں لیکن اب تک کسی بھی قسم کے ضلع میدک میں اقدامات نہیں کئے گئے۔ ضلع میں 2313 مساجد کے کمیٹی اراکین آہک پاشی کاموں کیلئے رجوع ہوئے لیکن حکومت کی جانب سے فنڈس جاری نہ ہونے پر ضلع میدک میں ابھی تک کوئی کام انجام نہیں دیئے گئے۔ گذشتہ سال ضلع میدک کے 108 مساجد کی آہک پاشی کاموں کیلئے 10لاکھ 79ہزار روپئے جاری کئے گئے تھے جبکہ اس سال ایک کروڑ 30لاکھ روپئے کا منصوبہ تلنگانہ حکومت کو ضلع میدک سے روانہ کیا گیا جو کہ ابھی تک منظور نہیں ہوا۔ ماہ رمضان میں مساجد کی صاف صفائی، تعمیراتی کام، عیدگاہوں کی صاف صفائی کا تیقن دیا گیا تھا
لیکن اس پر ابھی تک عمل نہ ہونے پر حکومت کی لاپرواہی سمجھی جارہی ہے۔ضلع میدک میں سال 2014 کے عام انتخابات کی وجہ سے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے قرضہ جات کو روک دیا گیا تھا۔ انتخابات کے بعد دوسرے مرحلے کے طور پر 366درخواستیں زیر التواء ہیں اور 145 درخواست گذاروں کیلئے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن نے اپنی سبسیڈی جاری کردی۔ ضلع میدک اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے 921افراد میں قرض جاری کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ ماہ جون میں میناریٹی کارپوریشن ایگزیکیٹو ڈائرکٹر کو یہاں سے ہٹادینے کے بعد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے کام انتہائی سست روی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ فوری طور پر اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ایکزیکیٹو ڈائرکٹر کو متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جبکہ نظام آباد کے اگزیکیٹو ڈائرکٹر پریم کمار کو سنگاریڈی تبادلہ کرنے کے امکانات ہیں۔ میناریٹی ویلفیر کے عہدہ پر بھی کوئی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ اقلیتی اسکالر شپس کے فنڈس ابھی تک جاری نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کی فیس جمع نہیں کی گئی جس کی وجہ سے کالج انتظامیہ طلباء کیلئے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔