مساجد کو آباد کرنے نوجوانوں کو تلقین

بیدر میں جلسہ اصلاح معاشرہ، مولانا عتیق احمد قاسمی کا خطاب
بیدر۔/15 فبروری، ( ای میل ) اس وقت پوری دنیا میں مادیت اور شہوانیت کا جو سیلاب آیا ہے اس نے تمام اخلاقی قدیں تہہ و بالا کردی ہیں۔ معاشرتی نظام، بے حیائی، بدکاری، بد اخلاقی اور عریانیت کا مرکب بن چکا ہے۔ اخلاقیات کے نظام کو بدکرداری اور نفع پرستی نے زیر و زبر کردیا ہے۔ معاملات کو سود اور حرام کی زنجیروں میں کچھ اس طرح چو طرفہ جکڑ رکھا ہے کہ امانت و دیانت صداقت و خیر خواہی کے اوصاف آخری سانس لے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا عتیق احمد قاسمی ناظم جامعہ خیرالنساء ظہیرآباد نے جمعیت علماء ہند کے زیر اہتمام بیدر میلور میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں حلال کی اہمیت اور حرام کی مذمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جیسا لقمہ حلق میں جاتا ہے بدن سے ویسے ہی اعمال صادر ہوتے ہیں، جو بدن حرام مال سے پرورش پاتا ہے وہ جہنم میں تپایا جاتا ہے، جو اپنی اولاد کو حلال روزی کھلاتا ہے اس کی اولاد نیک اورصالح نکلتی ہے۔ مسجدوں کی ویرانی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں سے تھیٹر، کلب، فحاشی و عیاشی کے اڈے بھرے پڑے ہیں اور مساجد ویران ہیں جو اپنی ویرانی اور بربادی کا ماتم کررہی ہیں۔ جو مسجد کو آباد کرتا ہے اللہ اس کو آباد کرتا ہے۔ جو مسجد کو ویران کرتا ہے اللہ اس کو اور اس کی زندگی کو ویران کرتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہر فرد کو حشر کے پانچ سوال کا سامنا کرنا ہے۔ جب تک پانچ سوال کا جواب نہیں ملے گا کوئی بندہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا، عمر کہاں گذاری؟ جوانی کہاں بیتائی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ دین کا علم جو جانتا تھا اس پر کتنا عمل کیا؟۔ مفتی غلام یزدانی اشاعتی صدر جمیعت علماء ہند ضلع بیدر نے فکر و آخرت پر خطاب کیا۔ حافظ شوکت غوری کی قرأت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ حافظ محمد ادریس امام مسجد زین العابدین میلور نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ میلور کے نوجوانوں کی کاوشوں سے یہ جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسہ گاہ میں شرکاء کی کثیر تعداد موجود تھی۔ مولانا عتیق احمد قاسمی کی دعاء پر رات دیر گئے جلسہ اختتام پذیر ہوا۔