نلگنڈہ /13 اپریل ( ذریعہ فیاکس ) روئے زمینپر سب سے پسندیدہ جگہیں اللہ کے گھر ہیں اور سب سے بدترین جگہیں بازار ہیں ۔ مسجد کے سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ہاجرہ کی قربانی بے مثال یادگار ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت سیدنا ابراہیم کو حکم دیا کہ بی بی ہاجرہ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل کو وادی غیر ذی زرعی میں چھوڑ آئیں پھر اللہ تعالی نے وہاں ایک بستی کو آباد کیا اور کعبہ اللہ کی تعمیر کا حکم دیا ۔ ان خیالات کا اظہار مسجد عطیہ بیگم نارکٹ پلی ضلع نلگنڈہ کے افتتاح کے موقع پر مولانا سید اکبر صاحب ناظم مجلس علمیہ نے اپنے خطاب کے دوران کیا اور مفتی صدیق صاحب مظاہری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسجدیں شعائر اسلام ہیں ۔ ان سے انسانوں کے دین و ایمان کا تحفظ ہوتا ہے اور مولانا وحید الدین قاسمی نے کہا کہ مسجدیں اللہ کی رحمتوں کے نزول کامرکز ہوتی ہیں اور مولانا مفتی امان اللہ خان صاحب قاسمی اور مولانا مقصود احمد طاہر رحمانی نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا عبیداللہ مفتاحی نے اپنے خطاب میں کہاکہ اس مسجد کے قیام میں دو خواتین کا بڑا حصہ ہے ایک خاتون نے مسجد کیلئے جگہ دی اور دوسری خاتون مرحوم کے نام مسجد کی تعمیر کی گئی ۔ اللہ تعالی ان کو اپنے شایان شان جزائے خیر عطافرمائیں اور ان کیلئے جنت میں گھر تعمیر فرمائے آمین ۔ مسجد کے متولی جناب غلام رفیع الدین خان نے مسجد کی تعمیر کی اور اس کو آباد رکھنے کی تلقین کی اور ان کے رفقاء عثمان علی جنید خان اور دیگر احباب نے اس موقع پر شرکت کی اور مسجد کے آباد رکھنے کے سلسلے میں نیک توقعات کا اظہار کیا ۔ اس مسجد کی تعمیر کی مکمل نگرانی جناب عبدالرشید اور جنید خان نے بحسن و خوبی انجام دی اور اس موقع پر جناب محبوب علی ، جناب منصور خان ، رحیم اللہ ،عبدالستار اور حافظ صبغتہ اللہ ، حافظ کرامت اللہ امانت اللہ اور نارکٹ پلی کے مسلمانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور جلسہ کو کامیاب بنایا ۔ ناظم جلسہ مولانا عبدالرحمن نے جلسہ کی کارروائی چلائی اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔