مرکزی وزارتِ داخلہ نکسلائیٹس علاقوں میں کارروائی کی خواہاں

نئی دہلی۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں سے کہا کہ سی پی آئی (ماؤسٹ) کے اعلیٰ سطحی قائدین کو پابند عہد ٹیموں کے ذریعہ نشانہ بنایا جائے جو پولیس اور انٹلیجنس بیورو (آئی بی) کے ارکان عملہ پر مشتمل ہیں اور اپنے اندیشوں کی بنیاد پر کام کریں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے گہری تشویش ظاہر کی کہ نریندر مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ایک بھی نکسلائیٹس کارکن کی ہلاکت کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے زیرصدارت نکسلائیٹ زیراثر علاقوں کا ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی اعلیٰ سطحی نکسلائٹ کارکن کی ہلاکت کا مودی حکومت کے دوران واقعہ نہ آنے پر انہیں سخت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی پولیس فورس اور مرکزی مسلح پولیس فورس کو خاص طور پر کوشش کرنی چاہئے کہ ریاستی حکومتوں کی ’’سیاسی وابستگی‘‘ کا لحاظ کئے بغیر کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ نکسلائیٹس قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ کم از کم دو سینئر سی اے پی ایف عہدیدار اجلاس میں ہونے والی کارروائی سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ کو شدید تشویش ہے کہ ہلاکتوں کا تناسب ماؤسٹوں کے حق میں ہے، یعنی صیانتی ارکان عملہ ، ماؤسٹوں کی بہ نسبت زیادہ تعداد میں ہلاک ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 مئی کو نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ایک بھی نکسلائیٹ کارکن ہلاک نہیں کیا گیا حالانکہ 100 بٹالین (سی اے پی ایف) کے ایک لاکھ 20 ہزار ارکان عملہ نکسلائیٹس کے خلاف کارروائیوں میں تعینات کئے گئے ہیں۔ 101 شہری، نکسلائیٹس کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ صرف 33 نکسلائیٹس ہلاک ہوئے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اجلاس میں نشاندہی کی کہ ریاستی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ سی پی آئی (ماؤسٹ) اعلیٰ سطحی قائدین کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے فرض سے وابستگی رکھنے والے مخلص ارکان عملہ کو کارروائی کرنی چاہئے۔ جن کا انتخاب پولیس اور مرکزی فورسیس سے کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ ریاستی سراغ رسانی محکموں کو بھی اس کارروائی میں تعاون کرنا چاہئے۔ یہ ٹیمیں صرف اندیشوں کی بناء پر بھی کارروائی کرسکتی ہیں کہ ریاستی قائدین کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹھوس اور قابل اعتماد انعامات کا ایسے افراد کیلئے اعلان کریں۔ جو سی پی آئی (ماؤسٹ) قائدین کو ہلاک کریں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے نکسلائیٹس کے خلاف 29 نکاتی لائحہ عمل پیش کیا۔ یہ لائحہ عمل ذرائع ابلاغ (سماجی و برقی) اور اخبارات کا بھرپور استعمال کرے گا تاکہ سی پی آئی (ماؤسٹ) کے بارے میں پائے جانے والے اوہام کا ازالہ کیا جاسکے اور ان کے پروپگنڈے کی تردید کی جاسکے۔وزارت داخلہ نے این جی اوز سے خواہش کی کہ وہ ماؤسٹ تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کریں اور چالاک مخالف شورش پسندی ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور فوج کی کارکردگی میں بہتری پیدا کرتے ہوئے بھی نکسلائیٹس زیراثر علاقوں میں ان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ محکمہ مواصلات کو ہدایت دی گئی کہ اس سلسلے میں انفراسٹرکچر کے قیام میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔