بیدر میں ریاستی اقلیتی چیرپرسن محترمہ بلقیس بانو کا صحافیوں سے خطاب
بیدر 10 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی اقلیتی کمیشن کی چیر پرسن محترمہ بلقیس بانو نے صحافیوں کو بتایا کہ ریاست میں ذات کی بنیاد پر سروے 1931 ء میں کیا گیا۔85 سال کے بعد ریاست کرناٹک میں ملک کی ایسی ریاست ہے جہاں 11 اپریل سے ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کے سماجی و تعلیمی حالات کو جاننے کے لئے پسماندہ طبقات کا سروے شروع کیا جارہا ہے۔ جس میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان بڑھ چڑھ کر حصہلیں اور صحیح تفصیلات شمار کنندہ کو بتائیں۔ سروے میں جملہ 55 سوالات ہیں۔ اس طرح کے سروے پسماندہ طبقات کو حکومت کی جانب سے ملنے والی مراعات کا بھرپور استفادہ کرنے کیلئے اقلیتوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سروے سے قبل تمام تفصیلات کو یکجا کرکے رکھیں اور سروے کے شمار کنندگان کا بھرپور تعاون کریں اور سروے کو کامیاب بنائیں۔ اُنھوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ نے اس طرح کا سروے سے خصوصی طور پر ریاست میں بسنے والے خاندانوں کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی صورتحال کے حساب سے انھیں رعایت دینے کیلئے ٹھوس اقدام اُٹھایا ہے۔ محترمہ بلقیس بانو نے کہاکہ شمار کنندہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سروے کے دوران سوال کے جواب میں زور زبردستی نہ کریں۔ کسی بھی سوایل کا جواب دینے یا نہ دینے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ریاست بھر میں 1.33 لاکھ پرائمری و سکنڈری اساتذہ کو لے کر سروے کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں تمام اضلاع کے اقلیتی عہدیداران، ضلعی وقف مشاورتی کمیٹیوں کے صدور اور کرناٹک مائناریٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ضلعی منیجر کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ اس سروے کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اقلیتوں میں شعور بیداری کے پروگرام کو روبہ عمل لائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کالم نمبر 5 میں مسلمان اپنا مذہب اسلام درج کروائیں۔ کالم نمبر 6 ذات سے متعلق ہے اس میں مسلم درج کروائیں اور کالم نمبر 7 سب کاسٹ میں سنی یا اپنے آبائی پیشہ کے اعتبار سے جو بھی درست ہو ، درج کروائیں۔ محترمہ نے کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے ریاست کے تمام اقلیتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جب حکومت کے عہدیدار سروے کیلئے آپ کے گھر آئیں گے تو برائے مہربانی ان کو پوری طرح صحیح معلومات فراہم کریں جس سے اقلیتوں کی معاشی، سماجی اور تعلیمی معیار کا جائزہ صحیح طور پر ہو تاکہ سروے کی بنیاد ہی پر آئندہ کی تمام فلاح و بہبود اور تعلیمی اسکیمات میں اقلیتوں کو برابر کا حصہ ملے اور اقلیتوں کو سماجی انصاف ملے۔ لہذا ریاست کرناٹک کے تمام سماجی، تعلیمی اداروں کے ذمہ دار، مساجد کے صدور و سکریٹری اور اراکین، ائمہ و خطیب حضرات سے گزارش کرتی ہوں کہ اپنے اپنے حلقوں اور محلہ جات میں اس سروے کی اہمیت بتاکر اس کو کامیاب بنائیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم یافتہ حضرات کو سروے کیلئے آنے والے سرکاری عہدیداروں کا تعاون کرنے کے لئے تیار کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ سروے فارمس ریاستی اقلیتی کمیشن کے ویب سائٹ www.karnataka.gov.in/karmin سے ڈاؤن لوڈ کرلیں اور فارم پُر کرکے تیار رکھیں تاکہ سروے کیلئے آنے والے عہدیداروں کو معلومات دینے میں آسانی ہوگی۔ محترمہ نے کہاکہ اس سروے کی اہمیت کو سمجھیں اس سے غفلت ہرگز بھی نہ برتیں۔