اجین، 29 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی نے آج بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مذہب کی بات کرنے والی بی جے پی کا اصل مذہب بدعنوانی ہے ۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے لئے 28 نومبر کے انتخابات کی مہم چلاتے ہوئے مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو صرف اپنے منظورنظر چند کارپوریٹ گھرانوں کی موافقت کی پرواہ ہے ۔ غریبوں کے مفادات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ رافیل جنگی طیاروں کی خریداری میں مبینہ گھپلے اور سابق فوجیوں کے لئے ایک رینک ایک پنشن اسکیم نافذ کرنے کے وعدے سے پھر جانے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر گاندھی نے نریندر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سابق فوجیوں نے خود ان سے شکایت کی ہے کہ مسٹر مودی اپنے وعدے سے پھر گئے اور اس حوالے سے وہ جھوٹ بولنے لگے ہیں ۔رافیل سودے پر وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر کانگریس نے کہا کہ ”مسٹر مودی نے فرانسیسی صدر سے کہا تھا کہ اس خریداری کا ٹھیکہ سرکاری ادارے ہندستان ایروناٹک لمیٹیڈ کے ذریعہ نہیں بلکہ انل امبانی کے ذریعہ دیاجائے گا ۔ سی بی آئی کے ڈائرکٹر اس سودے کی چھان بین شروع ہی کرنے والے تھے کہ مسٹر مودی نے گھبراکر انہیں آدھی رات کو ہٹا دیا”۔مرکزاور مدھیہ پردیش کی شوراج چوہان حکومت پر چند منظور نظر کارپوریٹ گھرانوں کو نوازنے کے لئے غریبوں کے مفادات سے صرف نظر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ اجین میں ایک غریب عورت اپنی بجلی کا بل ادا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو اسے حکومت گرفتار کرکے اس لئے جیل میں ڈال دیتی ہے کہ بل کی رقم بڑھ کر ایک لاکھ روپے ہوگئی تھی۔لیکن وجے مالیہ جیسا کوئی شخص جب نوہزار کروڑ روپیوں کے ساتھ فرار ہوجاتا ہے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔