عوام کی ناراضگی سے بچنے بی جے پی کا منصوبہ ۔ حالیہ سروے کے بعد پارٹی میںعملاً بے چینی
بھوپال 19 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مدھیہ پردیش میں جہاں انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوچکا ہے کہ برسر اقتدار بی جے پی اپنے موجودہ تقریبا 70 تا 80 ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ نہ دینے پر غور کر رہی ہے جن میں کچھ وزرا بھی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو شدید حکومت مخالف لہر کا سامنا ہے اور اس سے بچنے کیلئے پارٹی کثیر تعداد میں موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات 28 نومبر کو منعقد ہونے والے ہیں اور ووٹوں کی گنتی 11 ڈسمبر کو ہوگی ۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے ۔ بی جے پی ریاستی یونٹ کے ایک سینئر لیڈر نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ پارٹی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ کم از کم 70 تا 80 موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہ دیا جائے ۔ ان میں کچھ وزرا بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو یہ اطلاعات ہیں کہ ریاست کے عوام کچھ ارکان اسمبلی سے شدید ناراض ہیں اور اسی وجہ سے پارٹی نے ان ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ نہ دینے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ بی جے پی کے ذرائع نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان اپنی جن آشیرواد یاترا کے سلسلہ میں ریاست بھر کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہیں ایسے ارکان اسمبلی کی شکایات مل رہی ہیں جنہوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ۔ حال ہی میں ایک اوپینین پول سامنے آیا تھا جس میں پیش قیاسی کی گئی ہے کہ ریاست میں 15 سال بعد کانگریس کو اقتدار حاصل ہوگا ۔ اس وجہ سے بھی بی جے پی نے اپنی خرابیوں کو دور کرنے کی مہم شروع کی ہے ۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ایک لیڈر نے کہا کہ کچھ ارکان اسمبلی کے خلاف عوام کی برہمی بہت زیادہ ہے حالانکہ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان اب بھی عوام میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ نئے چہروں کو پارٹی امیدواروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو پارٹی کی ایک بار پھر ریاست میں اقتدار پر واپسی کے امکانات رہتے ہیں۔ بی جے پی نے 2013 کے اسمبلی انتخابات میں 25 فیصد نئے چہروں کو ٹکٹ دیا تھا اور نئے چہروں میں 75 فیصد کو کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ 230 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 2013 میں 165 نشستںو سے کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ کانگریس کو 58 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ بی ایس پی نے چار اور آزاد نے ایک نشست حاصل کی تھی ۔