مدنی معاشرہ کے قیام کیلئے علماء اور ائمہ کو آگے آنے کی ضرورت

غریبوں کی خدمت پر زور ‘میدک میں صفاء بیت المال کا سالانہ جلسہ ‘ مولانا محمد خالد بیگ ندوی ‘مولانا غیاث احمد رشادی کا خطاب
میدک3مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انسان کی کمائی میں غریبوں اور مستحقوں کی امدادکا بھی مصرف شامل ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے مصرف میں ضرور سماج کے ان غربا کا حصہ بر قرار رکھے جو کئی ایک دشواریوں میں مبتلا ہوکر ٹھیک سے دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار مولانا محمد خالد بیگ ندویؔ ،چیف پروموٹر ٹی اے ٹی گروپ آف انسٹی ٹیوشنس ٹمکور ،کرناٹک نے صفا بیت المال شاخ میدک کی جانب سے میدک کے محلہ کرسٹل گارڈن فنکشن ہال میں منعقدہ صفا بیت المال کے سالانہ تربیتی جلسہ عام کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔مولانا نے کہاکہ آج سماج کے کئی افراد فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں حالات ایسے کروٹ لے رہے ہیں کہ جس کا صحیح اندازہ آج سے چند سال قبل ہم میں سے کسی کو بھی نہیں تھا ۔ آج لوگوں کا یہ مزاج ہو چکا ہے کہ وہ غلط چیزوں اور بے جا مقامات پر اپنا سرمایہ صرف کرتے ہوئے شان بتاتے ہیں۔حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی یہ شان تھی کہ وہ اللہ کے راستہ میں اپنا مال خرچ کرتے اور غریبوں اور بیوائوں کی مدد کرتے ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہوئے خوش ہواکرتے تھے۔مولانا نے کہاکہ صحابہ کرام اللہ کے راستہ میں اللہ کے نبیﷺ کے حکموں کے مطابق ہی عمل کیا کرتے تھے وہ بے جا مقامات پر اسراف سے سختی کے ساتھ بے حد پرہیز کیا کرتے تھے ۔مولانا نے کہا کہ قوم کے علماء جب تک دوسروں پر احسان کر نے والے نہیں بنیں گے اس وقت تک ان کی بات کا اثر لوگوں پر نہیں ہوگا۔ آج ہم میں سے ہر شخص کو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دل کھول کراور پورے اخلاص کے ساتھ غریبوں کی خدمت کرنے والے بنیں۔اجلاس سے مرکزی صدر صفا بیت المال انڈیا مولانا محمد غیاث احمد رشادی نے اپنے خطاب میں سب سے پہلے صفا بیت المال کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب نبی اکرمﷺ نے مدینہ منورہ میں جو معاشرہ قائم کیا تھااسی مدنی معاشرہ کو ہندوستان کی سرزمین میں زندہ کرنا ہے۔کیونکہ پیارے پیغمبرﷺ نے مدنی معاشرہ میں یتیموں کی کفالت کی تھی۔اور یتیم بچوں کے سروں پر شفقت کے ہاتھ پھیرے تھے۔ہم بھی مدنی معاشرہ کو صفا بیت المال کے ذریعہ سے پورے ہندوستان میں قائم کرنے کا عزم مصصم کرچکے ہیں۔ اور پیارے نبی ﷺ نے جو کام مدنی معاشرہ میں کیا تھا آپ کے وارثین بھی اس کام میں شریک ہوتے ہوئے علمائے امت ائمہ کرام اور وہ لوگ جو دینی کاموں میں مصروف ہیں وہ اپنی مصروفیات کے ساتھ ہندوستان کی سرزمین میں مدنی معاشرہ کو زندہ کرتے ہوئے چاہے وہ مساوات کی بات ہو‘اخوت و ہمدردی کی بات ہو محبت کی بات ہو ‘الفت کی بات ہو‘غم خواری کی بات ہو‘ہمدردی کی بات ہو ‘حمیت اسلامی کا مسئلہ ہو ان تمام کاموں کی انجام دہی کیلئے وہ سربکف ہوکر اور کمر بستہ ہوکر ہندوستان کی سرزمین عوام میں چاہے وہ مسلمان ہو چاہے وہ غیر مسلم ہو چاہے وہ سکھ ہو‘چاہے وہ عیسائی ہو‘چاہے وہ بڑا ہو چاہے وہ چھوٹا ہو‘چاہے وہ بوڑھا ‘چاہے وہ معصوم ہو ‘چاہے وہ امیر ہو چاہے وہ غریب ہو سب کے دلوں اور ٹوٹے دلوں کے درمیان پہونچ کر ان علمائے کرام کو آج سے ساتھ پہلے جگایا گیا تھا۔اور علماء کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ کہ صرف اپنے دائرہ میں کام نہیں کرنا ہے بلکہ پورے قوم کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینا ہے۔اور مساجد کے ائمہ کو ان کی اپنی ذمہ داری سے واقف کرتے ہوئے انہیں یہ کہا گیا کہ تم صرف مسجد کے امام نہیں ہو بلکہ امام الناس ہو۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنا مال ایسے مصرف میں لگائے جس سے کسی یتیم کی،بے سہارا کی،مستحق کی امداد ہوجائے۔مولانا نے اپنے خطاب میں کہاکہ جو امور صفا بیت المال کے ذریعہ انجام دئے جارہے ہیں یہ کوئی نئے کام نہیں ہیں بلکہ یہ تمام کام مدنی معاشرہ میں انجام دئے جاتے تھے۔اجلاس سے مولانا قاضی محمد سمیع الدین نے خطاب کرتے ہوئے خدمت ِ خلق کے عنوان پر روشنی ڈالی اور کہاکہ جو شخص کسی دوسرے کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ اس کی مدد میں لگا رہتا ہے۔اجلاس سے میدک کے صفا بیت المال کے سرپرست اعلیٰ مولانا محمد جاوید علی حسّامیؔ(صدر مسلم ویلفیر سوسائٹی میدک) نے صفا شاخ میدک کی کارگزاری سناتے ہوئے کہاکہ صفا بیت المال کا قیام میدک کی سرزمین پر سنہ2008ء میں عمل میں آیا۔اور اسی وقت سے صفا بیت المال شاخ میدک اپنی خدمات میں پوری مستعدی کے ساتھ مصروف ہیں آج خدمت ِ خلق کے میدان میں اپنے آپ کو جھونکنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔مولانا نے کہاکہ سماج میں موجود بیوائیں،یتیم،مستحقین،اور بے سہارا افراد کی نگاہیں ہم پر ہیں لہذا ہم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ غیر ضروری باتوں اور بے جا امور میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے خدمت ِ خلق میں مصروف ہوجائیں آج قوم کے درمیان خدمت کرنے والوں کی بہت سخت ضرورت ہے۔آج سماج میں کئی ایسے افراد ہیں جن کو ٹھیک طریقہ سے ایک وقت کا کھانا نصیب نہیں ہورہا ہے ۔اور کئی کمزور افراد بستروں اور اسپتالوں میں محض اپنی غربت کی وجہ سے اپنا علاج کروانے سے قاصر ہیں ایسے لوگوں تک پہونچ کر ان کی خدمت کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔مولانا محمد مصدق القاسمی ناظم تعلیمات ادارہ اشرف العلوم حیدر آباد وسکریٹری صفا بیت المال انڈیا نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔خواتین کیلئے پردہ کا معقول انتظام کیا گیا۔جلسہ عام میں شہ نشین پر مرکزی صفا بیت المال کے ذمہ داران مولانا عبد المہیمن اظہر نائب صدر مرکزی صفا بیت المال انڈیا،مولانا وسیم الحق ندویؔ،خازن مرکزی صفا،کے علاوہ دیگر موجود تھے۔جلسہ عام میں مولانا محمد جاوید علی حسّامیؔ کوبسٹ خادم ِ قوم ایوارڈ اور مقامی صفا شاخ میدک کے ذمہ داروں کو بسٹ خادم ایوارڈسے نوازا گیا۔واضح رہے کہ مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم نیو ماڈل اسکول محلہ رحیم آباد میں صبح 9سے قبل نماز ِ عصر تک میدک،کرنول،ظہیر آباد،وجئے واڑہ، ویسٹ گوداوری،اوٹنور،خانہ پور،گُتی،کلواکرتی،سداسیواپیٹ عادل آباد،کریم نگر،ورنگل،محبوب نگر،نلگنڈہ،نظام آباد،کے علاوہ ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں قائم صفا بیت المال کے شاخوں کے ذمہ داروں کا سالانہ تربیتی اجلاس منعقدہوا۔