جانور کے نام پر انسان کا قتل
کشمیر … واحد مسلم چیف منسٹر برداشت نہیں
رشیدالدین
جب کبھی حکومت کے خلاف عوام میں نفرت اور ناراضگی شدت اختیار کرتی ہے تو حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے اور حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے برسر اقتدار پارٹی نت نئے حربے استعمال کرتی ہے۔ ان کا مقصد عوام کو نئے تنازعات میں الجھا دینا ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں زعفرانی بریگیڈ کی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ ہوگیا۔ گاؤ رکھشا کے نام پر نہتے اور معصوم مسلمانوں کی ہلاکتوں کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے۔ بی جے پی نے کشمیر میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ کا بہانہ بناکر محبوبہ مفتی حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی لیکن عدم رواداری اور نفرت کے جذبہ کے حامل زعفرانی جنونی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ جس طرح کشمیر میں دہشت گرد عام آدمی کی زندگی کو خطرہ پیدا کر رہے ہیں، اسی طرح زعفرانی دہشت گرد بھی مسلمانوں اور دلتوں کے خون کے پیاسے بن چکے ہیں۔ دونوں دہشت گردی اور دہشت گرد یکساں ہیں۔ نریندر مودی نے تمام طبقات اور مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کا خدا کے نام پر حلف لیا تھا لیکن انہیں گزشتہ چار برسوں میں اپنا حلف یاد نہیں رہا۔ نفرت کی سیاست کے ذریعہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کا فن بی جے پی سیکھ چکی ہے۔ مظفر نگر سے شروع ہوا خونی کھیل ملک کی دیگر ریاستوں پر پہنچ چکا ہے۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں حکومتوں کی سرپرستی میں زعفرانی دہشت گرد بے لگام ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم اور ان کے خون ناحق کے ذریعہ زمین تنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مسلمان اور دلتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہوئے خوف و دہشت کے ماحول میں ہندو راشٹر کے مقصد کی تکمیل کا منصوبہ ہے۔ بعض قومی نیوز چینلس سنگھ پریوار کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک چینل نے تو مسلم حکمرانوں کے دور میں لاکھوں ہندوؤں کے قتل عام کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرتے ہوئے جلتے پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے ۔
جس انداز میں چینل نے رپورٹنگ کی ایسا محسوس ہورہا تھا ، جیسے مسلم حکمرانوں کے دور میں چینل کا نمائندہ موجود تھا ۔ مسلم حکمرانوں کی رواداری کو بھلاکر انہیں ہندو دشمن کے رول میں پیش کیا گیا۔ اب تو تاریخ کی کتابوں میں تحریف کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے بانیوں کو دیش بھکت اور مجاہدین آزادی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ جدوجہد آزادی میں جو انگریزوں کے جاسوس تھے ، مودی حکومت میں قومی ہیرو بن گئے ۔ ہزاروں علماء نے وطن کیلئے جان نچھاور کردی لیکن دینی مدارس کو دہشت گردی کی فیکٹریاں قرار دیا گیا ۔ الغرض مسلمانوں اور دلتوں کا خون بہانا سنگھی دہشت گردوں کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے ۔ جانوروں کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اور رجحان ابھی باقی ہے لیکن مسلم اور دلتوں کو برسر عام تڑپا تڑپا کر موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے فخریہ طور پر فلم بندی کی جارہی ہے۔ آخر انسانیت کہاں مرگئی اور خون اس قدر سفید کیسے ہوگیا کہ زخمی پانی پانی پکارتا رہے لیکن ایک بوند پانی میں نہ دیا جائے۔ اترپردیش میں مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم عروج پر ہیں۔ ضلع ہاپور کے حالیہ واقعہ نے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے ۔ مظلوموں کا خون بہہ رہا ہے اور مذہبی لبادہ اوڑھے یوگی ادتیہ ناتھ پر بے حسی طاری ہے۔ مذہب چاہے کوئی ہو جو شخص جتنا مذہبی ہوتا ہے ، اس قدر زیادہ نرم دل ہوتا ہے لیکن مودی کے شاگرد یوگی سے ہمدردی کی توقع کرنا فضول ہے۔ یوگی کی مسلمانوں سے نفرت کا اندازہ ان کے حالیہ بیان سے ہوتا ہے ، جس میں انہوں نے کہا تھا ’’میں ہندو ہوں لہذا میں عید نہیں مناتا‘‘ دلتوں اور مسلمانوں سے کہیں ضمنی انتخابات کی شکست کا بدلہ تو نہیں لیا جارہا ہے ؟ بی جے پی کو خوف ہے کہ 2019 ء میں مسلم۔ دلت اتحاد بی جے پی کی نیا ڈبو سکتا ہے۔ لہذا ابھی سے نفرت کا ماحول پیدا کرتے ہوئے ہندوؤں کو متحد کرنے کی تیاری ہے۔ موذی جانور اور درندوں کے ساتھ بھی اس طرح کا سلوک نہیں کیا جاسکتا جس طرح نہتے مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا۔ حوانیت کا سلوک کرتے ہوئے انسانیت کو شرمسار کیا گیا۔ کسی آبادی میں اگر جنگلی جانور داخل ہوجائے تو اسے پکڑکر محکمہ جنگلات کے حوالے کیاجاتا ہے لیکن مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، زبان اس کے اظہار سے قاصر ہے۔ ملک میں پانی کی قیمت ہے لیکن مسلمان کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔ بقرعید سے عین قبل اس طرح کے واقعات باعث تشویش ہیں اور گاؤ رکھشا کے نام پر زعفرانی بریگیڈ پھر متحرک ہوسکتا ہے۔ لوک سبھا کے وسط مدتی انتخابات کی خبروں اور بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں چھتیس گڑھ، راجستھان ، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات سے قبل نفرت کے واقعات کسی ریہرسل سے کم نہیں۔ ان واقعات کی روک تھام کے سلسلہ میں نریندر مودی یا بی جے پی کی ریاستی حکومتوں پر بھروسہ کرنا فضول ہوگا۔ آخر مسلمان اور دلت کب تک مار کھاتے رہیںگے۔ کب تک ان کے خون سے زمین کی پیاس بجھائی جائے گی ؟ جب سے ہم نے مزاحمت کا راستہ ترک کردیا ، ظلم سہنا مقدر بن چکا ہے۔ دستور ہند میں ہر شہری کو حفاظت خود اختیاری کا حق دیا ہے۔ مسلمان اور دلت ظالم کی کلائی پکڑنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ مزاحمت کے ذریعہ ہی خونریزی کے سلسلہ کو روکا جاسکتا ہے ۔
وزیراعظم نریندر مودی کو ان دنوں فٹنس کا خود زیادہ ہی خیال ہے ، وہ روزانہ اپنی معمول کی ورزش کا ویڈیو عام کرتے ہوئے کئی قائدین کو فٹنس کا چیلنج کرچکے ہیں۔ معاشی اور دیگر شعبوں میں ملک کی حالت ٹھیک نہیں لیکن وزیراعظم کو ملک کی فٹنس پر توجہ دینے کے بجائے اپنی ذاتی فٹنس کی فکر ہے۔ گزشتہ دنوں عالمی یوم یوگا ملک بھر میں منایا گیا۔ حکومت نے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ جیسی قومی تقاریب سے زیادہ یوگا کے دن کو اہمیت دی اور سرکاری سطح پر جگہ جگہ پروگرام منعقد کئے گئے ۔ یوگا کو وطن پرستی اور قومی پرستی سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ویسے بھی صحت کے معاملہ میں ہندوستان دیگر ممالک سے زیادہ باشعور ہے۔ صرف ایک دن کے یوگا سے بیمار سماج کو صحتمند نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان کی تہذیب کے طور پر یوگا کے پرچار کے ذریعہ تمام مذاہب پر اسے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی اصل تہذیب رواداری ، محبت اور میل ملاپ ہے جو گزشتہ چار برسوں میں کم ہوئی ہے ۔ اگر نریندر مودی کو حکومت کی ایک اور میعاد ملتی ہے تو ملک میں بچی کچی رواداری بھی ختم ہوجائے گی۔ دوسری طرف 56 انچ کا سینہ رکھنے والے اور ملک میں سب سے زیادہ فٹ نریندر مودی نے سرحد پر دشمن کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کے بجائے جموں و کشمیر میں اپنی حلیف پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کیا۔ اس طرح جموں و کشمیر میں تین سالہ مخلوط حکومت کا دور گورنر راج کی نذر ہوچکا ہے۔ سرحد پر آئے دن دشمن کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ہندوستانی سپاہی ملک پر اپنی جان نچھاور کر رہے ہیں۔ مودی حکومت کو سرحد پر دشمن سے مقابلہ کی ہمت نہیں اور دہشت گردوں کی تائید کرنے والے پاکستان کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات نہیں رہی ، لہذا اپنی ناکامیوں کا ٹوکرا محبوبہ مفتی کے سر پر پھوڑ دیا گیا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ووٹ بینک کی پرواہ کئے بی جے پی پر بھروسہ کیا تھا لیکن بی جے پی نے اپنے دوست کو دھوکہ دیا ہے۔ حکومت سے علحدگی کے ذریعہ بی جے پی کشمیر کے حالات سے خود کو قطع تعلق نہیں کرسکتی۔
بی جے پی نے یہ اقدام اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کیا جس میں دونوں طرف کے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا انکشاف کیا گیا۔ کشمیر میں گزشتہ چار برسوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا ہے ، اس کی ذمہ داری مرکز پر عائد ہوتی ہے۔ فوج ، پولیس اور گورنر سب کچھ آپ کے ہیں، پھر بھی سرحد پر کوئی کنٹرول نہیں۔ وادی میں امن بحال کرنے کیلئے رمضان المبارک کے دوران سیز فائر کا تجربہ کیا گیا جس کی بی جے پی نے مخالفت کی ۔ سیز فائر کے دوران صورتحال بہتر ہوئی لیکن مختلف سازشوں کے ذریعہ حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی ۔ بعض طاقتیں ہرگز نہیں چاہتی کہ وادی میں امن قائم ہو۔ کیا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات سے انکار کیا جاسکتا ہے ؟ بی جے پی کو دراصل ہندوستان بھر میں واحد مسلم چیف منسٹر برداشت نہیں تھا۔ محبوبہ مفتی ملک کی واحد مسلم اور وہ بھی خاتون چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنی علحدہ شناخت بناچکی تھی ۔ انہوں نے اپنی کامیاب پالیسی کے ذریعہ بی جے پی کو کنارہ پر کردیا تھا ۔ ان کی مقبولیت اور بہتر حکمرانی بی جے پی کو پسند نہیں آئی۔ جس وقت سرحد پر ہندوستانی جوانوں کے کاٹے گئے اس وقت بی جے پی نے تائید واپق نہیں لی ۔ اب جبکہ صورتحال بہتر ہورہی ہے۔ اچانک تائید واپس لیتے ہوئے وادی کو گورنر راج کے حوالے کردیا گیا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ گورنر راج کے دوران صورتحال سدھرنے کے بجائے زیادہ بگڑی ہے۔ سرحد پر کشیدگی کے باوجود پاکستان سے دوسرے ممالک میں درپردہ مذاکرات جاری ہیں۔ اگر ہندوستان میں ہمت ہو تو اسے چاہئے کہ مذاکرات کے بجائے پاکستانی ہائی کمشنر کو واپس کردیں اور اپنے ہائی کمشنر کو طلب کرلیا جائے۔ نریندر مودی یہ ہرگز نہیں کرسکتے کیونکہ وہ امریکہ کے اشارہ پر کام کر رہے ہیں۔ مودی بولیوں کے ذریعہ پاکستان کی مذمت کرتے ہیں لیکن ان کا عمل اس کے برخلاف ہے۔ ندا فاضلی نے کیا خوب کہا ہے ؎
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو