مجلس بلدیہ نندیال سے 40مسلم امیدوار

نندیال۔/19 مارچ ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نندیال کی 116سالہ بلدیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی پارٹیوں نے 40مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارا ہے جو نندیال کے مسلم سماج میں ہلچل مچادینے والی بات ہے۔ پتہ نہیں ان 40امیدواروں میں سے کتنے لوگوں کی کشتی کنارے لگے گی۔ نندیال بلدیہ انتخابات میں اصل مقابلہ صرف وائی ایس آر سی پی اور تلگودیشم کے درمیان ہے۔ اس بار چار فیصد تحفظات جی او کے تحت ہی زیادہ مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے۔ نندیال میں وائی ایس آر سی پی اور تلگودیشم لیڈر مسلم آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے اور مسلمانوں کو سبز باغ دکھانے کے لئے ہی زیادہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ فراہم کئے ہیں کیونکہ آئندہ آنے والے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں مسلم ووٹوں سے ہی ان دونوں پارٹیوں کو زیادہ فائدہ ہونے والا ہے۔ وائی ایس آر سی پی سے 16امیدواروں کو ٹکٹ فراہم کئے ہیں جبکہ تلگودیشم 12امیدواروں اور کانگریس کی جانب سے 4، ایم آئی ایم کی جانب سے 6، لوک ستہ پارٹی کی جانب سے 3 ویلفیر پارٹی آف انڈیا کی جانب سے 3امیدوار بلدیہ انتخابی میدان میں ہیں۔

وائی ایس آر سی پی کے امیدوار وارڈ نمبر 2سے گورا مرتضیٰ، وارڈ نمبر 7سے ایس مالک باشاہ، وارڈ نمبر 10 سے سید حافظ احمد، وارڈ نمبر 11سے ڈی ایس رسول، وارڈ نمبر 12 سے رحمان شیخ، وارڈ 14سے کریم اللہ، وارڈ 18سے بڑا حسینی، وارڈ 34سے ایم محبوب ولی۔ خواتین امیدوار وارڈ نمبر 3سے شیخ نفیس، وارڈ 5 مالن بی، وارڈ 15سے شفیع النساء، وارڈ 29سے شیخ فریدہ، وارڈ 35سے شیخ جہاں آراء بیگم، وارڈ 37سے مالن بی،وارڈ41سے ڈی دستگیرماں، وارڈ 42 ڈی حسین بی۔ تلگودیشم کے مرد امیدواروں میں وارڈ نمبر2 ایس محمد صادق، وارڈ 7 سے ایس عبدالکلام، وارڈ 12 شیخ محمد حنیف، وارڈ 34 سے شیخ حاجرہ بی، وارڈ27 شیخ محبوب النساء، وارڈ سے شیخ فاطمہ النساء، وارڈ 35سے محبوب بی۔ کانگریس کے تین وارڈز سے شیخ صوفیا بی، شیخ رسول خاں، شیخ مدار صاحب، لوک ستہ سے ڈاکٹر عبدالرشید، شیخ زلیخا بی، ویلفیر پارٹی سے ایس علیم، خورشید اور محمد یونس، ایم آئی ایم پارٹی سے 6امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔