متحدہ عرب امارات میں 83 مسلم دہشت گرد گروپس کی فہرست تیار

ابوظہبی۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ متحدہ عرب امارات جو امریکہ زیر قیادت مخلوط اتحاد میں شامل ہے جو جہادیوں سے جنگ کررہا ہے، آج 83 مسلم دہشت گرد گروپس کی فہرست جاری کرچکا ہے۔ ان تنظیموں کو ’دہشت گردوں‘ کے زمرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست کو امارات کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے اور اسے سرکاری خبر رساں ادارہ ’وام‘ نے شائع کیا ہے۔ اسی طرح کا ایک اعلان مارچ میں سعودی عرب کی جانب سے بھی کیا گیا تھا۔ دہشت گرد گروپس کی فہرست میں القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے علاوہ اخوان المسلمین اور یمن کی نیم فوجی تنظیم حوتی شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کئی اماراتی اور مصری شہریوں کو اخوان المسلمین کے شعبے قائم کرنے کی بناء پر سزائے قید دے چکا ہے۔ یہ تنظیم مصر اور سعودی عرب میں غیر قانونی قرار دی جاچکی ہے۔ دونوں ممالک نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تحریک خلیجی ممالک کی شاہی حکومتوں کا تختہ اُلٹنا چاہتی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے آج قطر میں قائم بین الاقوامی یونین برائے علمائے دین کو بھی جس کے صدر اخوان المسلمین کے روحانی رہنما شیخ یوسف القرضاوی ہیں، دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرچکا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی الاصلاح سوسائٹی بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ اس سوسائٹی کے کئی ارکان قید کئے جاچکے ہیں۔ ماضی میں یہ تنظیم غیر معروف ’متحدہ عرب امارات جہادی شعبہ‘ تھی۔ خلیجی ریاستوں کی تنظیم حزب اللہ اور اسی نام کے عراق میں بریگیڈس بھی اس فہرست میں شامل ہیں، لیکن لبنان کی طاقتور ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

شام کی خانۂ جنگی میں اور لیبیا میں اسلام پسند گروپس شانہ بہ شانہ کئی بریگیڈس جنگ میں مصروف ہیں۔ تیونیشیاء، مالی، پاکستان، نائیجیریا کے بوکوحرام کے علاوہ افغانستان کے طالبان بھی اس طویل فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ 15 اسلام پسند جن پر النصرہ محاذ میں شمولیت اور اس کو مالی امداد فراہم کرنے کا الزام ہے، متحدہ عرب امارات میں ماہ ستمبر میں مقدمہ کا سامنا کرچکے ہیں۔ ان 15 اسلام پسندوں پر الزام ہے کہ وہ شام کی القاعدہ کے فرنچائزی اور الاحرار الشام کے فرنچائزی بھی ہیں۔ الاحرار شامی باغیوں کا گروپ ہے۔ متحدہ عرب امارات امریکہ زیر قیادت شام میں دولت اسلامیہ پر فضائی حملوں کا ایک حصہ رہ چکا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک بحرین، اردن، قطر اور سعودی عرب بھی فضائی حملوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ امارات کی فہرست میں یوروپ میں اسلامی تنظیموں کا وفاق بھی شامل کیا گیا ہے۔

خلیج میں تیل کی دولت سے مالامال شاہی حکومتوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے نہیں ہوئے ہیں، حالانکہ اس علاقہ کے ممالک میں 2011ء سے احتجاج کی لہر جاری ہے۔ عہدیداروں نے ناراض افراد اور شعبوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ جمہوری اصلاحات جاری کررکھے ہیں جن پر انسانی حقوق کے علمبردار گروپس کی جانب سے تنقید کی جاتی ہے۔ حملوں کا نشانہ زیادہ تر اسلام پسند افراد ہیں۔ اگست میں متحدہ عرب امارات نے انسداد دہشت گردی قوانین سخت کردیئے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو مالیہ کی فراہمی، یرغمال بناکر زر تاوان کی وصولی، عصمت فروشی کے لئے خواتین کی غیر قانونی فروخت اور رقومات کی غیر قانونی منتقلی کا انسداد کیا جاسکے۔ شام کی سرحد کے دونوں جانب کئی بریگیڈس جنگ میں مصروف ہیں۔ برطانیہ اور دیگر یوروپی ممالک کی مسلم اسوسی ایشنس بھی متحدہ عرب امارات کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔ لبنان کی حزب اللہ جو اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا وہم توڑ چکی ہے اور اسرائیل سے کئی بار جنگ کرکے اسے شکست دے چکی ہے، اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔