نئی دہلی، 18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے بدھ سے شروع ہو رہے مانسون سیشن میں حکومت 43 بل بحث اور منظور کرانے /لانے کی کوشش کرے گی جن میں سے چھ بل آرڈیننس کی جگہ لائے جائیں گے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے منگل کو بتایا کہ 24 دن کے اس سیشن کے دوران 18 راؤنڈ ہوں گے ۔ سیشن میں سال19- 2018کے لئے ریلوے سمیت دیگر ضمنی مانگ اور سال 16-2015 کی اضافی گرانٹ مطالبات کی منظوری کی تجویز پیش کی جائے گی۔ تین بل واپس بھی لیے جائیں گے جن میں لوک سبھا میں انتہائی چھوٹے ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹرپرائز ڈیولپمنٹ (ترمیمی)بل 2015 اور راجیہ سبھا میں سیکورٹی فورسز ٹریبونل (ایکٹ) بل 2012 اور نالندہ یونیورسٹی (ترمیم) بل 2013 شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیشن میں جن آرڈیننس کی جگہ بل لائے جائیں گے ان میں مفرور اقتصادی جرائم آرڈیننس 2018، فوجداری قانون ترمیمی آرڈیننس 2018،ہائی کورٹوں کی کمرشیل عدالتیں، کمرشیل ڈیوجنس اور کمرشل اپیل ڈوجنس (ترمیمی) آرڈیننس 2018، ہومیوپیتھی سنٹرل کونسل (ترمیمی) آرڈیننس 2018، قومی کھیل یونیورسٹی آرڈیننس 2018، انسالوینسي اور بینک کرپسي ضابطہ (ترمیمی) آرڈیننس 2018 شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ایوانوں میں زیر التواء پڑے کچھ اور اہم بل پر بھی بحث ہوگی اور انہیں منظور کیا جائے گا۔ان میں مسلم خواتین کی شادی کے حقوق کے تحفظ بل 2017، کنزیومر پروٹیکشن بل 2018، نئی دہلی بین الاقوامی آربٹریشن مرکز بل 2018، ٹرانسجینڈر افراد کے حقوق کا تحفظ بل 2016، آئین کی 123 ویں ترمیمی بل 2017،نیشنل میڈیکل کمیشن بل 2017، موٹروہیکلز ترمیمی بل 2017 اور اینٹی کرپشن ترمیمی بل 2013 شامل ہیں۔ نئے بل میں انسانی حقوق کے تحفظ (ترمیمی) بل 2018، حق اطلاعات (ترمیمی) بل 2018، ڈیم سیکورٹی بل 2018 اور ڈی این اے ٹیکنالوجی استعمال ریگولیشن 2018 بھی شامل ہیں۔