مارگ درشک منڈلی کا میزائیل۔ لال کرشنا اڈوانی نے موجودہ بی جے پی کے طور طریقوں پر اٹھائے سواء

بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشنا اڈوانی نے بلاگ لکھ کر موجودہ بی جے کے طور طریقوں پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ’’بی جے پی نے ابتداء ہی سے سیاسی مخالفین کو اپنا دشمن نہیں مانا اور انہیں ملک کا غدار کہنے سے بھی گریز کیا‘‘

نئی دہلی۔بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشنا اڈوانی نے بلاگ لکھ کر موجودہ بی جے پی کے طور طریقوں پر سوال اٹھا ‘ اڈوانی نے اپنے تازہ بلاک میں کہاکہ بی جے پی نے شروع سے ہی سیاسی مخالفین کو دشمن نہیں مانا ۔ جو ہم سے سیاسی طور پر اتفاق نہیں کرتے ‘ انہیں ملک کا غدار نہیں کہا۔

انہو ں نے آگے لکھا ۔ انہو ں نے آگے لکھا کہ ’’ پارٹی نے شہریوں کی ذاتی رائے اور سیاسی پسند سے اتفاق کیا ‘‘۔لال کرشنا اڈوانی نے اپنے بلاک میں بی جے پی کے موجودہ طور طریقوں پر بند الفاظوں میں مگر صاف صاف سوال اٹھائے۔

اڈوانی کے مذکورہ بلاک جس کا عنوان’ پہلا ملک‘ پھر پارٹی اور اس کے بعد میں‘اڈوانی نے 6اپریل کو بی جے پی کے یوم قیام کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ وہ بھارتیہ جن سنگھ او ربھارتیہ جنتا پارٹی دونوں کے لئے تاسیسی رکن ہیں اور تقریبا پچھلے ستر سال سے ملک کی خدمت کررہے ہیں ۔

انہو ں نے گاندھی نگر کی عوام کا شکریہ ادا کیاجنھوں نے انہیں چھ مرتبہ رکن پارلیمنٹ بنایا۔اڈوانی نے آگے لکھا ان کی زندگی تعلق رہا ہے کہ ’’ پہلا ملک‘ پھر پارٹی اور پھر میں‘‘ اور میں نے اس پر ہمیشہ چلنے کی کوشش کی ہے۔

دستور ہند کی خصوصیت اظہار خیال کی آزادی ہے۔ بی جے پی نے ہمیشہ سے ہی اپنے مخالفین کو دشمن نہیں مانا ۔

ہم سے اتفاق نہ کرنے والوں کو بھی کبھی غدار ملک نہیں کہا۔ اقتدار‘ جمہوریت ‘ اور قومیت کی بنیاد پر میری پارٹی کی ترقی ہوئی۔

لال کرشنا اڈوانی کو اس مرتبہ لوک سبھا الیکشن کا ٹکٹ نہیں دیا ہے اور ان کی روایتی گاندھی نگر سیٹ سے بی جے پی صدر امیت شاہ الیکشن لڑرہے ہیں۔

اڈوانی نے 1991سے چھ بار لوک سبھا کے لئے منتخب کرنے پر گاندھی نگر کے رائے دہندوں کا شکریہ ادا کیا۔اڈوانی نے کہاکہ پارٹی کے اندر اور باہربی جے پی جمہوریت اور جمہوری اقدار کی حفاظت میں مہارت رکھتی ہے۔

اس لئے بی جے پی میڈیا کے بشمول تمام جمہوری اداروں کی آزادی ‘ شفافیت اور ان کو مضبوط بنائے رکھنے کی مانگ کو لے کر ہمیشہ سب سے آگے رہی ہے۔

سابق نائب وزیراعظم نے کہاکہ سیاسی اور انتخابی فنڈنگ کو لے کر شفافیت کے بشمول الیکشن میں سدھار‘ بدعنوانی سے پاک سیاست کے لئے پارٹی کا اہم حکمت عملی رہی ہے۔ اڈوانی نے کہاکہ ایمرجنسی کے خلاف غیر معمولی جدوجہد ان اصولوں پر رہی ہے۔

انہو ں نے کہاکہ ان کی خواہش ہے کہ سبھی متفقہ طور پر ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کومضبوطی فراہم کریں۔ اڈوانی نے 2015کے بعد پہلی مرتبہ اپنے بلاک پر کوئی پوسٹ کیاہے