نئی دہلی 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کی جانب سے لوک سبھا میں کالا دھن مسئلہ پر تحریک التواء مسترد کردی گئی۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے تحریک مسترد کرتے ہوئے تاہم اتفاق کیاکہ وہ اپوزیشن کے اِس موضوع پر جلد از جلد مباحث منعقد کرنے کے مطالبہ پر غور کریں گی جو آج کے ایجنڈے کے آخر میں فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ سمترا مہاجن نے ایوان کو اطلاع دی کہ تحریک التواء جو کانگریس قائدین ملک ارجن کھرگے، ایم ویرپا موئیلی، کمل ناتھ اور دیگر نے پیش کی تھی، قاعدہ نمبر 56 کے تحت مقررہ پیمانہ پر پوری نہیں اترتی۔ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، اِس پر سابق لوک سبھا میں بھی بحث ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہاکہ وقفہ سوالات مباحث کے لئے معطل نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس کے جیوتر آدتیہ سندھیا اور ترنمول کانگریس کے سدیپ بنڈوپادھیائے نے جلد از جلد مباحث منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر نے کہاکہ وہ اِس مطالبہ کا جائزہ لیں گی اور مباحث ممکنہ حد تک جلد از جلد کروائے جائیں گے۔ تاہم انھوں نے کسی وقت کے تعین سے انکار کردیا۔ ملک ارجن کھرگے نے کہاکہ یہ مسئلہ نیا ہے کیونکہ اِس کا تعلق نریندر مودی کے لوک سبھا انتخابات سے قبل کئے ہوئے وعدہ سے متعلق ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ برسر اقتدار آنے کی صورت میں اندرون 100 دن کالا دھن واپس لائیں گے۔ لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے۔ اِس طرح وزیراعظم نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی۔ قبل ازیں سدیپ بنڈو پادھیائے نے کہاکہ کالا دھن مسئلہ پر مباحث آج کے ایجنڈہ کا آخری ایٹم ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کالے دھن پر مباحث رات کے اندھیرے میں کئے جائیں۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی ایم وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ این ڈی اے حکومت کے دور میں کوئی کالا دھن ملک سے باہر منتقل نہیں کیا گیا جو کچھ پیش آیا آپ کے دور حکومت میں پیش آیا ہے۔ ہم مباحث کے لئے تیار ہیں۔