نئی دہلی 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) غالباً پہلی بارلوک سبھا میں مرکزی بجٹ کی پیشکشی مختصر وقت کے لئے آج روک دی گئی۔ جبکہ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی پڑھتے وقت الفاظ کی ادائیگی مشکل محسوس کررہے تھے اور کچھ وقفہ چاہتے تھے۔ 61 سالہ مرکزی وزیر فینانس کمر درد کا شکار ہوگئے تھے جبکہ وہ 45 منٹ تک بجٹ تقریر کرچکے تھے۔ اُنھوں نے اسپیکر سمترا مہاجن سے کچھ وقفہ کی درخواست کی۔ وہ آرام کرلیں کیونکہ واضح طور پر وہ بے چین نظر آرہے تھے۔ سمترا مہاجن نے 11.45 بجے دن ایوان کا اجلاس 5 منٹ کے لئے ملتوی کردیا تاکہ جیٹلی آرام کرسکیں۔ فوری طور پر ایک طبی ٹیم مرکزی وزیر فینانس کی مدد کے لئے پہونچ گئی جنھوں نے طبی امداد قبول کرنے سے انکارکردیا اور صرف آرام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ مرکزی وزراء نرملا سیتارامن، پرکاش جاؤدیکر، وینکیا نائیڈو ، روی شنکر پرساد،ہرسمرت کور بادل، اننت کمار، لوک سبھا کے سکریٹری پی سریدھرن ارون جیٹلی کی عیادت کے لئے آئے۔ وینکیا نائیڈو اپوزیشن ارکان کے پاس گئے اور قائد کانگریس ملک ارجن کھرگے کو جیٹلی کے وقفہ لینے کی وجہ بتائی۔ کانگریس قائد جوتر آدتیہ سندھیا اور ترنمول قائد سوگت رائے بھی جیٹلی کی عیادت کے لئے پہونچے۔ جاؤدیکر نے بھی بعض ارکان بشمول اپوزیشن ارکان کے سامنے وضاحت کی کہ جیٹلی کو کمر درد ہے۔ ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر اسپیکر نے کہاکہ وقفہ اِس لئے دیا گیا تھا کیونکہ جیٹلی معمولی سی تکلیف محسوس کررہے تھے اِس لئے اُنھیں بیٹھ کر بجٹ پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ جیٹلی پہلے تو اُٹھ کھڑے ہوئے اور اسپیکر اور ارکان کا شکریہ ادا کیا جو اُن کی بجٹ تقریر سن رہے تھے اور کہاکہ کمر میں تھوڑا سا درد ہونے کی وجہ سے وہ تکلیف محسوس کررہے تھے۔ بعدازاں اُنھوں نے دو گھنٹے تقریر کی اور درمیان میں پانی پیتے رہے۔بعض ریاستوں کے ارکان نے اُن کی ریاستوں کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی۔