لوک سبھا میں ترنمول ۔ بی جے پی ارکان ایک دوسرے سے الجھ پڑے

نئی دہلی 8 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ترنمول کانگریس اور برسر اقتدار بی جے پی کے ارکان کے مابین آج لوک سبھا میں تصادم اور ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی جس کے نتیجہ میں ایوان میں لنچ کے بعد کے سشن میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا ۔ یہ ارکان ایک دوسرے کو زد و کوب کرنے کے قریب پہونچ گئے تھے ۔ ایوان میں گڑ بڑ اس وقت شروع ہوئی جب ریل بجٹ کی پیشکشی کے بعد 2.10 بجے کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا اور ترنمول کانگریس کے ارکان نے حال ہی میں معلنہ ریل کرایوں میں اضافہ سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے ریل بجٹ میں مغربی بنگال کیلئے کچھ نہیں کیا ہے جہاں ترنمول کانگریس کی حکومت ہے ۔ اس ہنگامہ آرائی کے نتیجہ میں ایوان کی کارروائی کو پہلے 3 بجے تک پھر 3.30 بجے تک ملتوی کردیا گیا تھا ۔ ایوان کی کارروائی کا دوبارہ جیسے ہی آغاز ہوا ترنمول کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے احتجاجی ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ گئے اور انہوں نے بجٹ کی مخالفت کی ۔ ترنمول کانگریس کے ارکان نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر ریلوے ڈی وی سدانند گوڑا اور ریل بجٹ کے خلاف نعرے لگائے ۔ بی جے پی ارکان نے بھی جوابی نعرہ بازی کی اور اب کی بار ۔ مودی سرکار کے نعرے لگانے لگے ۔

نعرہ بازی اور جوابی نعرہ بازی کے دوران بی جے پی کے دو ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ گئے اور انہوں نے ترنمول کانگریس ارکان پر الزام عائد کیا کہ وہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے ارکان کے مابین شدید لفظی جھڑپ شروع ہوگئی اور وہ ایک دوسرے سے متصادم ہونے کے قریب پہونچ گئے تھے ۔ ایک دو مارشلوں کو دونوں جماعتوں کے ارکان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ۔ کرسی صدارت پر فائز حکم دیو نارائن یادو نے ایوان کی کارروائی کو 4.30 بجے تک ملتوی کردیا ۔ صورتحال کو بگڑتا ہوا دیکھتے ہوئے منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور مسٹر پرکاش جاودیکر اور ان کے سینئر ایم وینکیا نائیڈو کے علاوہ ایک اور وزیر کلراج مشرا بھی ارکان کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ کچھ کانگریسی ارکان کو بھی ایوان کے وسط میں پہونچتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ کسی امکانی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جاسکے ۔

التوا کے بعد ایوان کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا اس وقت ترنمول کانگریس کے رکن سوگتا رائے نے کہا کہ بی جے پی رکن ہری نارائن راج بھر نے ٹی ایم سی کی خاتون ارکان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی ہے اور جب وہ ایوان کے وسط میں احتجاج کر رہے تھے تو انہیں دھمکایا گیا ہے ۔ بی جے پی کے ارکان نے اس پر اعتراض کیا اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی ۔ سگاتا رائے نے ایوان میں نظم بحال کرنے کیلئے پوائنٹ آف آرڈر اٹھانے کی کوشش کی جس پر منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور پرکاش جاودیکر نے اعتراض کیا اور کہا کہ جن افراد نے کارروائی میں خلل پیدا کیا ہے وہی شکایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ترنمول ارکان کا احترام کرتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایوان کی کارروائی کس نے متاثر کی ہے ۔ بعد ازاں ترنمول کانگریس کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاوز کامپلکس میں گاندھی جی کے مجسمہ کے پاس احتجاج منظم کیا اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی ارکان نے انہیں مارنے پیٹنے کی دھمکی دی ہے اور قابل اعتراض زبان استعمال کی ہے ۔