لوک سبھا میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود اِنشورنس بل پیش

نئی دہلی۔ 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج بائیں بازو کی جماعتوں اور ترنمول کانگریس کی شدید مخالفت کے دوران آج ایک اہم معاشی اصلاحات بل پیش کردیا گیا تاکہ انشورنس شعبہ میں بیرونی راست سرمایہ کاری (FDI) کی حد میں 49 فیصد تک اضافہ کی منظوری دی جاسکے۔ انشورنس قوانین (ترمیمی) بل 2015ء قبل ازیں حکومت کے جاری کردہ آرڈیننس کی جگہ لے گا جس پر مختلف گوشوں سے تنقید کی جارہی ہے۔ اس بل کا مقصد انشورنس ایکٹ 1918، جنرل انشورنس بزنس (نیشنلائزیشن) ایکٹ 1972 اور انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ایکٹ 1999 میں ترمیم لانا ہے اور انشورنس شعبہ میں غیرملکی سرمایہ کاری کی حد 26 فیصد سے 49 فیصد تک اضافہ کرنا ہے۔ یہ بل جوکہ عرصۂ دراز سے معرض التواء تھا، مملکتی وزیر فینانس جینئت سنگھ نے ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ ایوان میں پیش کیا۔ بل کی تائید میں 131 اور مخالفت میں 45 ووٹ حاصل ہوئے۔ بائیں بازو اور ترنمول کانگریس ارکان کا یہ استدلال تھا کہ لوک سبھا میں یہ بل پیش کرنا قانونی اختیار نہیں ہے کیونکہ اس نوعیت کا ایک بل راجیہ سبھا میں زیرالتواء ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن کی مخالفت پر گزشتہ ہفتہ راجیہ سبھا سے اس بل سے دستبرداری کی کوشش کی گئی تھی۔ سی پی ایم لیڈر پی کرونا کرن اور ان کے ایک اور رفیق سمپتھ نے کہا کہ حکومت کو یہ اختیار یا حق حاصل نہیں ہے کہ مذکورہ بل پیش کرے کیونکہ راجیہ سبھا میں اس نوعیت کے بل کو ہنوز منظوری نہیں دی گئی ہے۔

سوگٹ رائے (ٹی ایم سی) نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک بل ایک ایوان میں معرض التواء ہو اور دوسرے ایوان میں اسی طرح کا بل پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انشورنس شعبہ میں ایف ڈی آئی کی حد میں اضافہ کی مخالف ہے لیکن تعارف کے مرحلے میں یہ مسئلہ نہیں اٹھائیں۔ مسٹر ایم بی راجیش (سی پی ایم) نے کہا کہ حکومت نے غیرجمہوری طریقہ سے بل پیش کرکے ایک غلط مثال قائم کردی ہے جبکہ ان کی پارٹی کے رفیق پی کے شریمتی ٹیچر نے اس بل کو عوام دشمنی قرار دیا۔ اپوزیشن کی مخالفتوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی اُمور مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ چونکہ حکومت کا جاری کردہ آرڈیننس 6 ہفتوں کیلئے کارآمد ہوتا ہے لہذا آرڈیننس کی جگہ قانون سازی ناگزیر ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت نے انشورنس شعبہ میں ایف ڈی آئی کی حد میں اضافہ کیا تھا۔ ایک بل کی منظوری کیلئے کوشش کی تھی اور سال 2008ء میں راجیہ سبھا میں یہ بل پیش کرنے کے بعد سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا گیا تھا۔