لوک سبھا میں انشورنس بل پیش کرنے پر اعتراض حکومت پر دستور کی خلاف ورزی کا الزام

نئی دہلی ۔ 4 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام) : انشورنس شعبہ میں بیرونی سرمایہ کاری کی حد میں 49 فیصد تک اضافہ سے متعلق قانون میں ترمیم کے لیے لوک سبھا میں ایک بل پیش کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے آج پھر ایکبار حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جب کہ اسی نوعیت کا ایک اور بل راجیہ سبھا میں معرض التواء ہے ۔ یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے سی پی ایم کے پی راجیو نے بتایا کہ ارکان راجیہ سبھا کو انشورنس قوانین ( ترمیم ) بل کی کاپیاں آج ہی موصول ہوئی ہیں جسے کل لوک سبھا میں متعارف کروایا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ دستور کے آرٹیکل 107 میں یہ واضح ہے کہ کوئی بھی قانونی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک میں پیش کیا جاسکتا ہے چونکہ انشورنس بل راجیہ سبھا میں معرض التواء ہے اور یہ ایوان بالا کی ملکیت بن گیا ہے ۔ جس کی منظوری تک لوک سبھا میں اس نوعیت کا بل پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم نائب صدر نشین پی جے کورین نے کہا کہ ارکان نے کل جو مسئلہ اٹھایا تھا اس پر اپنی رولنگ محفوظ کردی ہے تاکہ دستوری دفعات کا مطالعہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دستور دفعات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد رولنگ دیں گے ۔ لیکن اپوزیشن ارکان سے فی الفور رولنگ دینے پر زور دیا ۔ بصورت دیگر ایک غلط نظیر قائم ہوجائیگی جس پر کورین نے کہا کہ وہ بہت جلد اپنی رولنگ دیں گے ۔