لوک سبھا اجلاس میں مزید 3 یوم کی توسیع کا اچانک فیصلہ

نئی دہلی ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا کی کارروائی آج دو مرتبہ ملتوی کردی گئی۔ جب متحدہ اپوزیشن نے لوک سبھا اجلاس کو مزید 3 دن کیلئے توسیع کرنے حکومت کے فیصلے کے خلاف شدید اعتراض کیا اور اسے حکومت آمرانہ اقدام سے تعبیر کیا۔ ایوان کی کارروائی آج صبح شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے لوک سبھا اجلاس کو مزید 3 دن کیلئے توسیع کرنے کے فیصلہ پر احتجاج کیا اور بتایا کہ حکومت نے ان سے مشاورت کئے بغیر یکطرفہ اقدام کیا ہے۔ کانگریس، بائیں بازو اور ترنمول کانگریس ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر تاناشاہی نہیں چلے گی۔ مودی سرکار جواب دو جیسے نعرے بلند کئے۔ قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے نے اسپیکر سے مداخلت کا مطالبہ کیا جبکہ اصل شیڈول کے مطابق آج لوک سبھا کو ملتوی کردینا تھا لیکن پارلیمانی امور سے متعلق کابینی کمیٹی نے کل اجلاس میں مزید 3 یوم کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کے شوروغل کے درمیان کیرتی سومیا (بی جے پی) ایوان میں کل نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے ایک ریمارک کا تذکرہ کیا،

جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے حلقہ پارلیمان امیتھی میں فوڈ پارک کے قیام کیلئے وزیراعظم نریندر مودی فیصلہ لینے میں پس و پیش کررہے ہیں۔ اگرچیکہ شوروغل میں بی جے پی رکن کی آواز واضح سنائی نہیں دی لیکن انہوں نے بتایا کہ فوڈ پارک پراجکٹ کا تعلق ایک خانگی کمپنی سے اور حکومت اس معاملہ میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا وہ ایوان کو گمراہ کرنے کے الزام میں راہول گاندھی کے خلاف تحریک مراعات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ سومیا اور دیگر بی جے پی ارکان نے نعرے لگاتے ہوئے راہول گاندھی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا جوکہ اس وقت ایوان میں موجود نہیں تھے جبکہ وزیر فوڈ پراسیسنگ ہریشمت کور نے بعض دستاویزات بی جے پی ارکان کو دکھائی۔ دریں اثناء نعرے اور جوابی نعروں کے درمیان اسپیکر سمترا مہاجن سے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کیلئے ملتوی کردی

اور ایوان کی کارروائی 11.15 بجے دوبارہ شروع ہوئی دوبارہ شروع ہوئی اور وقفہ صفر جاری تھا کہ ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے۔ اسپیکر نے بارہا اپیل کی کہ وزارت ایوش کے انچارج وزیر سریپد نائیک کو سنیں لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور اپوزیشن ارکان نے حکومت سے دوبارہ جواب طلب کیا کہ آیا اجلاس کی توسیع دی گئی ہے یا نہیں؟ اور وقفہ صفر میں بار بار رکاوٹ کے پیش نظر اسپیکر نے دوبارہ کارروائی ملتوی کردی اوراپوزیشن ارکان نے مودی سرکار ہوش دو نعرے لگاتے ہوئے باہر نکل آئے۔ بعدازاں اسپیکر سمترا مہاجن نے یہ رولنگ دی کہ 13 مئی تک لوک سبھا اجلاس جاری رہے گا کیونکہ حکومت کے فیصلہ کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے منظوری دیدی ہے۔ اپوزیشن کو اس بات پر اعتراض تھا کہ لوک سبھا کی کارروائی میں توسیع کی اطلاع انہیں میڈیا کے ذریعہ ملی ہے لیکن حکومت نے اجلاس میں توسیع کی اطلاع دینے سے کیوں گریز کیا۔