حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز) دہلی پولیس نے آج لشکر طیبہ کے مبینہ رکن عبدالکریم تونڈا کو نامپلی کریمنل کورٹ میں پیش کیا۔ تونڈا کو آج صبح سخت سیکورٹی کے درمیان عدالت میں لایا گیا اور اسے بارہویں ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کیا گیا جہاں پر عدالت نے اس کے مقدمہ کی سماعت کیلئے میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس کو کیس منتقل کردیا۔ عبدالکریم تونڈا جو لشکر طیبہ کا خطرناک رکن تھا اسے دہلی پولیس کے اسپیشل سل نے اگسٹ 2013 میں گرفتار کیا تھا بعد ازاں سی سی ایس کی اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم ( ایس آئی ٹی ) نے اسے پی ٹی وارنٹ پر حیدرآباد منتقل کیا تھا۔ واضح رہے کہ سال 1998ء میں عبدالکریم تونڈا کے خلاف ایک مقدمہ جس کا کرائم نمبر 155/98ہے مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا جس میں وہ ملزم نمبر 22ہے۔ تونڈا طویل عرصہ سے پاکستان میں مقیم تھا اور وہاں سے لشکر طیبہ کیلئے مبینہ طور پر کام کررہا تھا جس کے تحت اس نے پاکستان کے شہری اور لشکر طیبہ کے ایک رکن محمد سلیم جنید کو حیدرآباد روانہ کیا تھا تاکہ شہر میں دہشت گرد حملے کئے جاسکیں۔ یکم جولائی 1998ء میں ہندوستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے سلیم جنید کو حیدرآباد میں گرفتار کرتے ہوئے اس کے قبضہ سے آر ڈی ایکس جیسا خطرناک دھماکو مادہ برآمد کیا تھا اور اس سازش کے الزام میں دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ سلیم جنید کو چند سال قبل اس کیس میں سزا سنائی گئی تھی اور بعد ازاں اسے سزا مکمل ہونے پر پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا۔ نامپلی کریمنل کورٹ نے تونڈا کے خلاف داخل کی گئی چارج شیٹ کو قبول کرتے ہوئے اس کے خلاف میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر مقدمہ کی سماعت چلانے کے احکام جاری کئے اور اسے 30ڈسمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت میں پیشی کے بعد تونڈا کو دہلی پولیس نے بذریعہ فلائیٹ آج شام واپس دہلی منتقل کردیا۔