نارائن پیٹ ۔ 18جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تعلیم کو تجارت نہیں بلکہ سماج کی ترقی کا زینہ ہونا چاہیئے ۔ سماج میں مثبت تبدیلی کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ علم کے فروغ اور قوموں کی ترقی کیلئے اساتذہ ہمیشہ کلیدی رول کے حامل رہے ہیں ۔ مسٹر چندرا موہن ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محبوب نگر نے ماڈرن ہائی اسکول نارائن پیٹ میں منعقدہ ڈیویژن سطح کے صدور مدرسین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدفیصد خوانگی کے نشانہ کے حصول کے لئے اساتذہ ترک مدرسہ کرنے والے اور اسکول کو نہ آنے والے بچوں کو مدارس میں شریک کروائیں ۔ ایس ایس سی کے نئے نصاب اور طریقہ امتحان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جدید تدریسی طریقوں اور تدریسی آلات کو استعمال کرتے ہوئے اساتذہ معیارتعلیم میں مزید اضافہ کی کوشش کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جدید امتحانی طریقہ کار مسلسل جامع جانچ کے بعد تیار کیا گیا ہے ۔ بچوں میں سائنسی رجحات اور فکری ارتقاء کیلئے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے ۔ بچوں میں اکتسابی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے تکنیکی و نئے تجربات پر غور و فکر کے لئے حکومت کی جانب سے ہر ہائی اسکول کے 4طلبہ اوراپر پرائمری اسکول کی سطح پر 2طلبہ کیلئے Inspire ایوارڈ دیا جارہا ہے اور ان طلبہ کو رقمی امداد فراہم کی جائے گی جو کہ وہ سائنسی تجربات وتخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاسکیں اور اپنے تجربات کو ضلعی سطح پر سائنس فیر کے انعقاد کے موقع پر اس کو پیش کرسکیں ۔ اجلاس کی صدارت جناب وحید نثار ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر نارائن پیٹ نے کی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں صدرمدرسین کو ہدایت دی کہ وہ اپنے مدرسوں کے ذہین اور سائنسی مضمون و تجربات میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کی فہرست سائنس ٹیچر کے مشورہ کے بعد دفتر ناظر تعلیمات کو روانہ کریں اور ان کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی آن لائن داخل کریں تاکہ Inspire ایوارڈ کی رقم راست طلبہ کے کھاتوں میں جمع ہوسکے ۔