حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : امراض قلب کو دور کرنے والی سرجری کے طریقہ کار میں
(BIMA) نے انقلابی تبدیلی لائی ہے ۔ جس سے توقع ہے کہ امراض قلب کے علاج بالخصوص آپریشنس وغیرہ کے نتائج بہتر سے بہتر برآمد ہوں گے ۔ معروف ماہر امراض قلب ڈاکٹر پرتیک بھٹناگر نے آج آلیو ہاسپٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتایا کہ ہائیلیٹرل انٹرنل مامری آرٹری طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے جو آپریشن کیے گئے تھے ان کی عالمی رپورٹس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ 70 تا 90 فیصد مریض اس طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے تقریبا 20 برس تک صحت مند زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور اس آپریشن سے مریض کو جلد افاقہ بھی ہورہا ہے ۔ ڈاکٹر پرتیک بھٹناگر جو کہ زائد از ایک ہزار قلب کے آپریشنس کا تجربہ رکھتے ہیں نے بتایا کہ اس سرجری کے ذریعہ نہ صرف مریض جلد صحت یاب ہوتا ہے بلکہ وہ اندرون 15 یوم ایک کیلو میٹر سے زیادہ چہل قدمی کے قابل ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آلیو ہاسپٹل میں اس طریقہ آپریشن کو اختیار کرنے پر ایک ورکشاپ 18 فروری کو منعقد ہوگا جس میں ملک بھر کے مختلف شہریوں سے 100 کے قریب ماہرین امراض قلب شرکت کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کا طریقہ کار یہ ہے کہ اس آپریشن میں سینے کے اندرونی حصہ میں موجود رگوں کو استعمال کے ذریعہ ہی قلب کی شیریانوں کو بہتر بنایا جاتا ہے اور ہاتھ یا پیر سے کسی رگ کو نکالا نہیں جاتا ۔ ڈاکٹر پرتیک بھٹناگر کے مطابق اس آپریشن کے بہتر نتائج طویل مدت تک برقرار رہنے کی وجوہات میں اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ہی مقام سے رگوں کا استعمال کرتے ہوئے مریض کی بیماری کے ازالہ پر توجہ دی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر بھٹناگر چیف کارڈیالوجسٹ آلیو ہاسپٹل نے بتایا کہ اس طریقہ جراحی کے اختیار کرنے سے امراض قلب کو دور کرنے کی کوشش میں انقلابی تبدیلی رونما ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹر نور چیف ایکزیکٹیو آفیسر آلیو ہاسپٹل کے علاوہ ڈاکٹر واصف اعظم و دیگر موجود تھے ۔ ڈاکٹر واصف اعظم نے بتایا کہ ڈاکٹر بھٹناگر انتہائی تجربہ کار اور مہارت رکھنے والے ماہر امراض قلب ہیں جو کہ مریض کی سرجری بآسانی انجام دیتے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر BIMA طریقہ سرجری کی تفصیل بتائی ۔ قبل ازیں ڈاکٹر بھٹناگر نے امراض قلب میں مبتلا افراد میں آپریشن و سرجری کے طریقہ کار کے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس موقع پر آلیو ہاسپٹل میں آپریشن کے بعد صحت مند ہونے والے مریضوں نے بھی اپنی رو داد پیش کی اور بتایا کہ قلب کے آپریشن کے بعد وہ اندرون ایک ہفتہ گھر جانے کے قابل ہوگئے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر اعظم الدین خواجہ ( امریکہ ) کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ ڈاکٹر اعظم الدین خواجہ نے ابتداء میں اس طریقہ آپریشن کی عالمی مقبولیت اور رپورٹس سے واقف کروایا ۔۔