انقرہ ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں 15 بلین ڈالرس کی سرمایہ کاری کرنے کا قطر نے عہد کیا۔ یہ سرمایہ کاری اس تناظر میں نہایت اہم ہیکہ ترکی کرنسی بحران سے شدید متاثر ہے اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ بھی اہم وجہ ہے۔ قطر کے صدارتی ترجمان ابراہیم کالن نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ قطر نے ترکی میں 15 بلین ڈالر کی راست سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے۔ کالن نے مزید کہا کہ ترکی۔ قطری تعلقات ٹھوس بنیادوں پر قائم ہیں جو سچی اور مخلص دوستی، سالمیت پر قائم ہے۔ یہ اعلان امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی کے ظہرانہ کے موقع پر بات چیت کے بعد کیا گیا جبکہ امیر قطر نے صدر ترکی رجب طیب اردغان سے بات چیت کی۔ اردغان نے اس فراخدلانہ اعلان پر امیرقطر اور قطری عوام سے اظہارتشکر کیا کہ وہ ہمیشہ ترکی کی حمایت میں موجود ہیں۔ اردغان نے قطر سے تعلقات کو مخلصانہ دوستی اور برادرانہ ملکی تعلقات سے تعبیر کیا۔ اندلو نیوز ایجنسی نے ان اطلاعات کو رپورٹ کیا اور ان تعلقات کو وسیع پیمانہ پر مختلف علاقوں میں ترقی کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ ترکی وزیرخزانہ بیرات البیرک جو اردغان کے داماد ہیں، اپنے ہم منصب الشریف العمادی اس بات چیت اور اعلان کے موقع پر وہاں موجود تھے۔ واضح رہیکہ امریکہ کی عائد کردہ نئی پابندیوں نے ترکی پر برا اثر ڈالتے ہوئے مقامی کرنسی لیرا میں زبردست گراوٹ آئی ہے جبکہ امریکہ نے گذشتہ جمعہ المونیم اور اسٹیل پر ٹیکس دگنا کردیا ہے۔ ترکی نے اس کے جواب میں امریکی مصنوعات کا ترکی میں مکمل مقاطعہ کردیا ہے۔ ترکی، اس وقت عرب امارات کا سب سے بڑا برآمدی ملک ہے۔ واضح رہیکہ انقرہ، دوحہ (قطر) کے ساتھ سعودیوں کی عائد کردہ جوھٹے الزامات کے تحت مصیبتوں کا شکار ہے، اس وقت میں اس کا سب سے بڑا مددگار بن کر ابھرا۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ ترکی، قطر میں اپنا ایک چھوٹا سا ’’فوجی اڈہ‘‘ رکھتا ہے۔