قرآن کے پیغام کو برادران وطن تک پہنچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری

گلبرگہ۔18مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) قرآن کتابِ ہدایت اور سر چشمۂ نجات ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کی مقدس کتاب نہیں بلکہ ساری انسانیت کی دنیوی اور اُخروی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ مسلمانوں کے پاس ایک امانت ہے ۔ اسکے پیغام کو اُن برادرانِ وطن تک پہنچائیں جو اس سے ناآشناہیں۔ یہ مسلمانوں کا فرض منصبی ہے۔ اسکی ادائیگی میں کوتا ہی اور مجرمانہ غفلت ناراضگیٔ ِ رب کا موجب ہے‘مسلمان کو خدا کیپاس جوابدہ ہیں۔مو جودہ عالمی و ملکی حالات مسلمانوں کو اپنے فرضِ منصبی سے وابستگی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ قرآنی تعلیمات کو عام کرنا وقت کی اولین ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولوی محمد فہیم الدین ،رکن مجلسِ شوریٰ جماعتِ اسلامی ہند،کرناٹک نے کیا۔ مولانا نے بگدل میں معززین ِ شہر کے خصوصی اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انسان فنا ہونے والی زندگی کے پیچھے دوڑ کر اپنی آخرت کو تباہ و برباد کررہا ہے ، جبکہ اسلام دنیا میں رہ کر آخرت کی فکر و تیاری کرنے والے کو عقلمند بناتا ہے۔ اسبابِ دنیا ہی انسانی زندگی کا مقصد بننا کمزور ایمان کی نشانی ہے۔سید جمیل احمد ہاشمی سابق امیر مقامی جماعتِ اسلامی ہند بیدر نے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مومن کی کوئی بھی چیز اپنی نہیں ہوتی۔ وہ تمام ذرائع جو کچھ ہمارے اختیار میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہی ہیں ۔ بندۂ مومن کی آرزو، تمنّا اور خواہش یہی ہوتی ہے کہ اللہ کی زمیں پر اللہ کا قانون نافذہوجائے۔ موصوف نے کہا کہ باطل طاقتیں اسلام کے تیزی سے پھیلنے پر خوف زدہ ہیں۔ اسلام کے غلبہ کا ڈر ساری دنیا پر عیاں ہے۔ دنیا ابتک بہت سارے اِزم کو اپنایا۔ لیکن ہر اِزم انسان کو مختلف مسائل اور پریشانیوں سے دو چار کیا، الجھنیں پیداہوئیں۔ لیکن اب ہر اِزم کی ناکامی کے بعد دنیا امن، سکون ، عدل و انصاف ، ظلم کے خاتمہ کیلئے اسلام کو تیزی سے اپناتی جارہی ہے۔ چونکہ یہ عین انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ دعوت ِ قرآن کو احسن، خلوص و للٰہیت کے ساتھ بلا تفریق رنگ ونسل،زبان و علاقہ کے ہر فرد تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جناب محمد رفیق احمد گادگی ناظمِ علاقہ جماعتِ اسلامی ہند، گلبرگہ نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا قرآن سے سلوک بے حد افسوسناک ہے۔ہم اس سے ثواب تو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اسکی دعوت کو عام کرنے کیلئے ہمارے پاس کوئی لا ئحہ عمل نہیں۔ یہ امانت ہے اسکو اہلِ امانت تک پہنچانے کیلئے منظم کوششیں کرنا اسکی قدردانی کرنا، اسکا پڑھنا پڑھانا، بندگانِ خدا تک پہنچانا ساری تگ و دو ہماری اولین ترجیحات میں ہوں اور یہ قرآن کا حق ہے۔اس موقعہ پر محمد نظام الدین پرنسپل رینوکا کالج بیدر نے بھی مخاطب کیا۔ اجلاس کا آغاز حافظ فیصل کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں قرآن پروچن پروگرام کیلئے استقبالیہ کمیٹی، مالیہ کمیٹی، پروگرام کمیٹی، دعوہ کمیٹی، تشہیری کمیٹی اور دیگر انتظامی امو رپر ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ اس دوران کنڑی اور اردو زبان میں قرآن اور اسلام سے متعلق پمفلٹس اور لٹریچر کی تقسیم کا وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کا فیصلہ بھی ہوا۔اقبال احمد نے اجلاس کی کاروائی چلائی۔ وابستگانِ جماعت و ایس آئی او کے علاوہ معززینِ شہر کی کثیر تعداد شریکِ اجلاس رہی۔ محمد اکرم علی ناظمِ ضلع جماعتِ اسلامی ہند بیدر ک دُعا پراجلاس اختتام کو پہنچا۔