قدیم عراقی شہر ہاترا کی مبینہ تباہی کی مذمت

بغداد۔8مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارہ نے آج دولت اسلامیہ کے جہادی کے ہاتھوں قدیم عالمی تہذیبی ورثاء کی حیثیت سے شہر ہاترا کی تباہی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رومی سامراج کے دور کے اس قدیم قلعہ بند شہر کی عراق کی ریگستان میں تباہی ناقابل برداشت ہے ۔ دو دن قبل مبینہ طور پر عراق کی وزارت نوادارت و آثار قدیمہ نے اطلاع دی تھی کہ دولت اسلامیہ نے قدیم اسیریائی شہر نمرود کو زمبین بوس کردینے کی اطلاع دی تھی اور جہادیوں کی جانب سے اگلے ہفتہ ایک ٹیپ جاری کیا گیا تھا جس میں انہیں موصل میوزیم میں مصوری کے شاہکاروں کو تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔ شہر ہاترا کی تباہی ثقافتی صفائے کی پریشان کن حکمت عملی کا ایک نیا موڑ ہے ۔ ہاترا ایک انتہائی اچھی طرح محفوظ شہر تھا جس کی انفرادیت مشرقی اور مغربی فن تعمیر کا امتزاج تھی ۔ یہ شہر ریگستانی علاقہ میں جنوبی جہادیوں کے مرکز موصل کے جنوب مغرب میں 100کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا ۔ سرکاری ذرائع کے بموجب عالمی تہذیبی ورثاء کے حامل شہر ہاترا کی تباہی کی اطلاع ملی ہے۔ یونسکو نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ شہر ہاترا کو کب اور کیسے تباہ کیا گیا ۔یہ شہر تقریباً دو ہزار دو سو سال قدیم تھا ۔ اس تباہی کی تفصیلات عراقی یونسکو کے بیان میں یہ نہیں ظاہر کیا گیا کہ ہاترا کب اور کیسے تعمیر کیا گیا تھا ۔ یہ تاریخی شہر جنوب مغربی صوبہ نینوا میں واقع تھا ۔ مقامی رکن پارلیمنٹ محمد نوری نے کہا کہ تاحال ہاترا کی تباہی کی اطلاعات کی توثیق نہیں ہوئی ہے ۔ یہ شہر بالکل الگ تھلگ تھا اور اس کے قرب و جوار میں بھی کوئی آبادی نہیں تھی ۔

انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی اس تباہی میں شخصی طور پر شریک رہنے یا اس کا مشاہدہ کرنے کی خبر نہیں دی ہے ۔ عراق کی وزارت سیاحت و نوادارت نے بھی توثیق کی ہے کہ یہ شہر تباہ کردیا گیا لیکن اس نے صرف اخباری اطلاعات کا حوالہ دیا تھا اور راست طور پر اس واقعہ کی توثیق نہیں کی ہے ۔ تاہم موصل میوزیم کے مجسموں کو تباہ کردینے کے بعد دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر انتباہ دیا تھا کہ وہ نمرود اور ہاترا کو تباہ کردیں گے لیکن ہاترا کے پورے شہر کو زمین بوس کرنا جس کی فصیل بہت موٹی تھی اور عمارتیں بہت وسیع تھیں جو دو رومی حملوں کو بھی دوسری صدی عیسوی میں برداشت کرچکی تھیں ۔ اس کی تباہی آسان کام نہیں ہے ۔ یونسکو نے شہر ہاترا کو ایک وسیع قلعہ بند شہر قرار دیا ہے جس کا اثر پورے پارتھیائی سامراج پر پڑا تھا ۔ یہ شہر پہلی عرب مملکت کا دارالحکومت تھا اور اسلامی عرب شہروں کی جڑیں یہیں پر سے ہر جگہ کھڑی تھیں۔ یونسکو کی ڈائرکٹر جنرل بوکووا نے کہا کہ یہ اسلامی عرب شہروں کی تاریخ پر راست حملہ ہے اور اس سے توثیق ہوتی ہے کہ انتہا پسند گروپس کی جانب سے تہذیبی ورثاء کے حامل مقامات کو تباہ کرنے کا پروپگنڈہ غلط نہیں ہے ۔ اس بیان پر عبداللہ العزیز عثمان التویزری نے بھی دستخط کئے ہیں جو تعلیمات اسلامی‘ سائنٹیفک اور تہذیبی تنظیم کے ڈائرکٹر جنرل ہیں ۔