کریم نگر میں تہنیتی تقریب سے ڈاکٹر مسعود جعفری اور دیگر کا خطاب
کریم نگر۔/12اکٹوبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ایک شام قدیر زماں کے نام، آج کی خصوصی نشست کا نام دیا گیا ہے۔ قدیر زماں جیسی ہمہ جہت صلاحیتوں کی حامل شخصیت کیلئے اس نشست کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ مترجم ، ڈرامہ نگار، افسانہ نویس، تاریخ داں اور ایک بہترین طنز و مزاح نگار، تلخیص کار، غرض ادب کا کونسا ایسا شعبہ نہیں ہے جس پر قدیر زماں کے نوک قلم سے چھوٹ گیا ہو۔ڈاکٹر مسعود جعفری نے یہاں فلم بھون میں منعقدہ پروگرام جو کہ تحریک ترقی اردو ادب کریم نگر کے زیر اہتمام بعنوان ایک شام قدیر زماں کے نام بصدارت صدر تحریک ترقی اردو ادب سید محی الدین سینئر صحافی منعقد کیا گیا ۔ اس پروگرام میں قدیر زماں کی حالیہ شائع شدہ ’ کھلی کتاب‘ پر مباحثہ تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر مسعود جعفری نے قدیر زماں کی مختلف تصانیف اور ان کی مصروفیت فکر و فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قدیر زماں کو نہ صرف اردو بلکہ انگریزی زبان و ادب پر غیر معمولی دسترس حاصل ہے۔ قدیر زماں کو ایک قد آور قلمکار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدیر زماں بغیر کسی خوف و جھجک ہمیشہ جو سچ تھا اسے سپرد قلم کیا اور ہر قسم کے خدشات سے بے فکرہوگئے۔ جہاں کہیں انہوں نے ناانصافی ظلم و جبر ہوتے دیکھا تو ان کی کشادہ قلبی و روشن ضمیری نے انہیں بے چین کردیا اور ان کی فنکارانہ صلاحیت بیدار ہوگئی اور قلم چلنے لگا۔ اس طرح سے ان کے بے شمار افسانے، ڈرامے، کہانیاں، مختلف تخلیقات منظر عام پر آچکی ہیں۔انہوں نے قدیر زماں کا موازنہ خلیل جبران، سقراط، مارکس، رومی وغیرہ سے کیا اور کہا کہ اس طرح کے چوٹی کے دانشور ہیں جن کا کسی اور سے تقابل کرنا ہی مشکل ہے۔پروفیسر ڈاکٹر حمیرہ تسنیم نے قدیر زماں کی مختلف تصانیف اور ان کے طرز تحریر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قدیر زماں جیسی قدآور شخصیت کے بارے میں بھی کچھ کہنا یا رائے دینا اور ان کے فن کے بارے میں رائے پیش کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کا فن رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہاں بحیثیت صدر شعبہ اردو شاتاواہانہ یونیورسٹی کے پروگرام کنوینر سینئر صحافی جناب سید محی الدین نے مدعو کیا ہے جس کے لئے وہ مسرت محسوس کررہی ہیں۔ انہوں نے قدیر زماں کی بہت ساری تحریروں، افسانوں کے حوالے دیتے کہا کہ ان کی سوچ و فکر، گہرا مطالعہ، انگریزی اور اردو زبان پر عبور کی وجہ سے ان کی خدا داد صلاحیت اور یادداشت نے انکی تحریروں میں دنیا بھر کی معلومات کو سمودیا ہے۔اس پروگرام میں شریک مشہور شاعر و نقاد موظف لکچرر ڈاکٹر رؤف خیر نے ایک شام قدیر زماں کے نام پروگرام میں ان کی تصنیف ’’ کھلی کتاب ‘‘ پر مباحثہ کے دوران انہوں نے قدیر زماں کی سوچ و فکر پر اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر رؤف خیر نے اپنی رائے اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ قدیر زماں کی تصانیف پر اور ان کے انداز بیاں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر جعفر جری نے قدیر زماں کے تعلق سے کہا کہ ان سے میری ملاقات دیرینہ ہے وہ میرے محسن خیر خواہ ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے والے زندہ دل انسان ہیں جو کسی کی برائی نہیں چاہتے۔قبل ازیں جناب سید محی الدین کنوینر نے کہا کہ قدیر زماں بحیثیت ایک انسان مختلف صلاحیتوں والی شخصیت ہیں، قدیر زماں فی الحال حیدرآباد میں مقیم ہیں لیکن ان کا آبائی ضلع کریم نگر ہے اس لئے مشہور و معروف شخصیت کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں یہاں ایک تقریب کا انعقاد ہمارے لئے اعزاز و فخر کا باعث ہوگا اس خیال کے تحت اس نشست کا اہتمام کیا گیا ہے۔قبل ازیںجناب قدیر زماں کو تہنیت پیش کرتے ہوئے شال پوشی کی گئی۔ اس موقع پر ’’ کھلی کتاب ‘‘ کی ترتیب کار شیراز سلطانہ نے قدیر زماں کا تعارف پیش کیا جبکہ محمد ریاض علی رضوی معتمد تحریک اردو ادب و صدر حج سوسائٹی کریم نگر نے جلسہ کی کارروائی چلائی اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مشہور شاعر خواجہ معین الدین گوہر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا اور ان کی مغفرت کی دعاء کی۔