فیڈرر ناکام‘ سوئٹزرلینڈ برابری کرنے میں کامیاب

للی(فرانس) 22نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) 17مرتبہ کے گرانڈ سلام چمپئن راجر فیڈرر کو اپنے کریئر میں ڈیوس کپ کی بدترین شکست برداشت کرنی پڑی جیسا کہ 33سال کی عمر میں ڈیوس کپ کا فائنل کھیل رہے فیڈرر کو فرانسیسی ٹینس اسٹار جائل موفلس کے خلاف 6-1 ‘ 6-4‘ 6-3کی شکست برداشت کرنی پڑی ہے ۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ فیڈرر کو ڈیوس کپ کے مقابلہ میں راست سیٹوں میں ناکامی برداشت کرنی پڑی ہے جیسا کہ 1999ء میں جب وہ نوجوان تھے تو انہیں اطالوی ٹینس اسٹار گینلوکا روزی کے خلاف شکست برداشت کرنی پڑی ہے ۔قبل ازیں آسٹریلین اوپن چمپئن اسٹانسلس واؤرنکا نے خطابی مقابلہ کا اپنی ٹیم سوئٹزرلینڈ کے لئے شاندار آغاز کرتے ہوئے فرانس کے سرفہرست کھلاڑی جوویلفریڈ سونگا کے خلاف 6-1‘ 3-6 ‘ 6-3‘ 6-2کی کامیابی حاصل کی ۔فیڈرر کی موفلس کے خلاف ناکامی حیران کن ہے

کیونکہ اس مقابلہ سے قبل کھیلے گئے 10مقابلوں میںفیڈرر نے 8فتوحات حاصل کی ۔ فیڈرر جو کہ ڈیوس کپ خطابی مقابلہ جیتنے کیلئے پسندیدہ کھلاڑی تصور کئے جارہے تھے لیکن ان کی تیاریوں کو اُس وقت شدید جھٹکہ لگا لندن میں اے ٹی پی ورلڈ ٹور فائنلس کے خطابی مقابلہ سے قبل وہ پیٹھ کی تکلیف میں مبتلا ہوکر مقابلہ سے دستبردار ہوئے تھے اور نواک جوکووچ کو متواتر تیسری مرتبہ سیزن کا آخری خطاب حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ فیڈرر نے ناکامی کے بعد اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ گذشتہ پانچ دنوں سے پیٹھ کی تکلیف کی باعث پریشان ہیں اور اس تکلیف سے ہنوز مکمل صحت یاب نہیں ہوئے ہیں ۔ فیڈرر کے بموجب مقابلہ کے بتدریج آگے بڑھنے کے ساتھ وہ خود کو بہتر محسوس کررہے تھے جو ان کے حوصلہ افزاء ہے ۔