ری ڈیوجینیرو ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) برازیل کو رواں برس فٹبال ورلڈ کپ اور 2016میں اولمپکس کی میزبانی کرنی ہے۔ یہ ملک اپنے فیسٹیولس اور میلوں ٹھیلوں کے سبب دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ برازیل مشہور زمانہ کا کارنیوال کبھی بھی بدانتظامی کا شکار نہیں ہوتا لیکن فٹبال ورلڈ کپ کے آغاز میں ابھی چھ ماہ کا وقت ہے لیکن برازیل اس حوالے سے ابھی سے مشکلات کا شکار ہے۔ میدانوں کی تعمیر میں تاخیر، اس دوران ہونے والے حادثات، ہلاکتیں اور اسٹیڈیمس پر برداشت کئے جانے والے اخراجات کو مقامی افراد کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ دریں اثناء فیفا نے برازیل کی تیاریوں کو تاحال کھل کر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تاہم گورننگ باڈی کی جانب سے اس بارے میں تشویش کا اظہار ضرور کیا جاتا رہا ہے۔ اب انٹرنیشنل فٹبال فیڈریشن کے صدر سیپ بلاٹر میزبان ملک کی سست روی پر شدید برہم ہوچکے ہیں۔
نہوں نے کہا ہے کہ برازیل فٹبال فیڈریشن نے میگا ایونٹ کی تیاریاں بہت تاخیر سے شروع کیں۔ اسی لئے وہ مقررہ وقت سے بہت پیچھے ہیں۔ صدر کا کہنا ہیکہ برازیل کو ورلڈ کپ کے انعقاد کو ممکن بنانے کیلئے سب سے زیادہ وقت ملا یعنی اسے سات برس قبل ہی معلوم تھا کہ ٹورنمنٹ یہاں کھیلا جائے گا لیکن انہوں نے اس جانب بروقت توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ تاخیر کی صورت میں نکلا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ برس کنفیڈریشن کپ بھی برازیل میں کھیلا گیا تھا جس دوران برازیل میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہیکہ مذکورہ تینوں بڑے ایونٹس پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا جارہا ہے جس سے ملک میں مالی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔برازیل میں ورلڈ کپ 12جون تا 13جولائی تک کھیلا جائے گا۔ سیپ بلاٹر نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ برازیل میں ہنگامے ہوئے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران ماحول بالکل مختلف ہوگا اور ٹورنمنٹ پرامن انداز سے مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی مشکلات ضرور ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ برازیل کے عوام ورلڈ کپ کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ یہ کھیل یہاں کے عوام کے لئے تہوار کی طرح ہے۔