زیورخ21 ڈسمبر(سیاست ڈاٹ کام) فٹبال کے عالمی ادارے فیفا کے عہدیداران نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی سے متعلق بولی کے معاملے میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق رپورٹ کو شائع کریں گے۔فیفا کے منتظمین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 430 صفحات پر مبنی یہ رپورٹ ابھی مرتب کیے جانے کے مراحل میں ہے۔یہ رپورٹ اس وقت شائع کی جائے گی جب چار افراد سے تفتیش مکمل کرلی جائے گی جو ہنوز اپنے آخری مراحل میں جاری ہے اور اسی بہت زیادہ احتیاط سے مرتب کیا جائے گا تاکہ ان افراد کی شناخت کو راز میں رکھا جا سکے۔رپورٹ کو شائع کرنے متعلق فیصلہ فیفا کی پالیسی میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جس نے ابتدا میں اس رپورٹ کو ظاہر کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ کچھ عرصے قبل فٹبال کے ورلڈ کپ 2018 ء اور 2022 ء کی میزبانی کے سلسلے میں بدعنوانی کے مزید الزامات سامنے آئے تھے۔ دی ہاؤز آف کامنز میں ثقافتی میڈیا اور کھیل کی نمائندہ کمیٹی نے اس بارے میں جو رپورٹ شائع کی
اس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ 2018 ء میں انگلینڈ میں فٹبال ورلڈ کپ منعقد کروانے کے لیے بولی لگانے والوں نے اپنے حریف ممالک کی سرگرمیوں کی جاسوسی کی تھی۔ واضح رہے کہ روس اور قطر کو بالترتیب 2018 ء اور 2022 ء میں ورلڈ کپ منعقد کرنے کی ذمہ داری ملی تھی۔ سنڈے ٹائمز کے ذریعہ دی جانے والی معلومات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کس طرح انگلینڈ کی دعویداری کیلئے افواہوں اور انٹلیجنس کی بنیاد پر ایک ڈیٹا بیس تیار کیا گیا تھا اور یہ معلومات نجی کمپنیوں اور بطور خاص برطانوی سفارت خانوں سے حاصل کی گئی تھی۔ تاہم اخبار نے کوئی واضح شواہد فراہم نہیں کئے اور اس کی بجائے رپورٹ میں ووٹوں کے مبینہ طور پر خریدے جانے اور فٹبال کے ادارے فیفا کے قوانین سے فائدہ اٹھانے کی تفصیلات ہیں۔ ایک دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ روس نے یوروپین فٹبال اسوسی ایشن کے صدر مائیکل پلاٹینی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے انھیں مشہور مصور پکاسو کی ایک پینٹنگ دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر پوٹن نے اپنے ملک کیلئے میزبانی کا حق حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہاں تک کہ فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کی خدمات بھی حاصل کی گئیں تاکہ وہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے گروپ بندی کو مستحکم کیا جائے۔