ساؤ پاؤلو۔ 8؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ ورلڈ کپ فٹبال کے آغاز کے لئے اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور صرف چار دن باقی رہ گئے ہیں، لیکن برازیل میں حکام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ فٹبال ورلڈ کپ کی میزبان برازیل نے بڑے پیمانے پر تیاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ افتتاحی مرحلہ قریب آنے تک بھی یہ تنازعات تھمنے والے نہیں۔ اس کی تازہ مثال سب وے ورکرس کی ہڑتال ہے جس نے تعمیراتی کاموں کو بھی متاثر کیا ہے۔ صدر برازیل ڈیلما روزیف نے ٹورنمنٹ کے خلاف اسے منصوبہ بند مہم قرار دیا ہے اور ہڑتال کی سخت مذمت کی ہے۔ ورکرس نے اپنا کام روک دیا اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا ہے جس کی وجہ سے ساؤپاؤلو میں گزشتہ تین دن سے مسلسل ٹریفک جام ہورہی ہے۔
ورلڈ کپ فٹبال کا افتتاحی مقابلہ جمعرات کو برازیل اور کروشیا کے مابین ہوگا۔ اس مقابلہ کو دیکھنے کے لئے 60 ہزار سے زائد شائقین جمع ہوں گے اور حکام کے لئے افتتاحی مقابلہ سے قبل تنازعات کی یکسوئی کے لئے شدید دباؤ ہے۔ سب وے ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ یہ منصوبہ بند کارروائی ہے اور اس کا مقصد 5 اکٹوبر کے عام انتخابات سے قبل حکومت کے لئے مسائل پیدا کرنا ہے۔ روزیف نے کہا کہ ملک میں جب فوجی ڈکٹیٹرشپ تھی، تب بھی ورلڈ کپ کو سیاسی اثر سے دُور رکھا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ٹورنمنٹ کی تیاریوں کی غرض سے جو خطیر رقم خرچ کی گئی اور ایرپورٹس کو عصری بنایا گیا، اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں بہتری لائی گئی جس کا فائدہ یقینا برازیل کو ہوگا۔ حکومت نے ٹرین اور روڈ انفراسٹرکچر کا بھی وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ 12 کے منجملہ 5 اسٹیڈیمس کی تعمیر کا کام ہنوز مکمل نہیں ہوا ہے۔ ایک دن قبل احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے حکام نے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا تھا۔