فرنچ اوپن میں ریکارڈ کے بعد نڈال کی ومبلڈن پر نظریں

پیرس۔ 9؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ رافل نڈال نے اب خود کو ایک اور ومبلڈن خطاب کے لئے تیار کرلیا ہے، حالانکہ آل انگلینڈ کلب کے ساتھ ان کے تعلقات محبت اور نفرت پر مبنی ہیں۔ 28 سالہ عالمی نمبر ایک نڈال نے فرنچ اوپن 2014ء کے خطابی مقابلہ میں اپنے کٹر حریف نواک جوکووچ کے خلاف پہلا سیٹ ہارنے کے باوجود 3-6، 7-5، 6-2، 6-4 کی کامیابی حاصل کرتے ہوئے یہاں ریکارڈ 9 واں فرنچ اوپن خطاب اور کریر کا 14 واں گرانڈ سلام حاصل کیا ہے، تاہم وہ اس کامیابی کے باوجود مطمئن نہیں ہیں، کیونکہ وہ 23 جون کو شروع ہونے والے سیزن کے تیسرے گرانڈ سلام ومبلڈن میں 15 ویں گرانڈ سلام کے حصول کے خواہاں ہیں۔ نڈال نے یہاں 2008ء میں پہلا خطاب حاصل کیا تھا اور اب وہ ومبلڈن کے تیسرے خطاب کے خواہاں ہیں، کیونکہ 2008ء میں خطاب کے دوران وہ اپنا گھٹنہ زخمی کربیٹھے تھے جس کی وجہ سے انھیں تقریباً ایک برس تک سرگرم ٹینس سے دُور رہنا پڑا تھا۔ 2008ء کے بعد 2010ء میں انھوں نے یہاں دوسرا ومبلڈن خطاب حاصل کیا تھا جب کہ 2011ء میں جوکووچ کے خلاف وہ رنر اَپ رہے۔ 2012ء میں ان کیلئے ومبلڈن کے حالات انتہائی مایوس کن رہے تھے، کیونکہ دوسرے ہی راؤنڈ میں انھیں لوکاس روسل کے خلاف شکست برداشت کرنی پڑی تھی اور اس شکست کے بعد گھٹنے کے زخم کی وجہ سے سات ماہ وہ سرگرم ٹینس سے دُور رہے تھے۔ نڈال کے بموجب فرنچ اوپن میں یادگار کامیابی کے بعد اب وہ جرمنی میں گھاس پر کھیلے جانے والے وارم اَپ ایونٹ میں شرکت کررہے ہیں جوکہ ومبلڈن کے لئے تیاری کا اہم موقع تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہی موقع تھا جب نڈال کو گرانڈ سلام ٹورنمنٹ سے ابتدائی مرحلہ میں ہی باہر ہونا پڑا تھا۔ نڈال نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اب صد فیصد صحتیاب ہیں جوکہ ان کے لئے کافی اہم ہے اور وہ اُمید کررہے ہیں کہ گھاس پر کھیلے جانے والے ٹورنمنٹ کے سیزن کے آغاز پر وہ اپنے گھٹنوں کی تکلیف سے راحت حاصل کرتے ہوئے بہتر مظاہرہ کریں گے۔ نڈال نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ گھاس کے میدان ان کے لئے ہمیشہ ہی مشکل ترین رہے ہیں اور زخموں کے بعد تو یہ ان کے لئے مزید مسائل پیدا کرنے کی وجہ بنے ہیں۔ 2012ء میں ومبلڈن کے دوران نڈال اپنا گھٹنہ زخمی کربیٹھے تھے جس کے بعد انھوں نے بہتر مظاہرے کی کوشش بھی کی، تاہم انھیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں۔ فرنچ اوپن چمپئن نڈال نے اُمید کا اظہار کیا ہے کہ اس مرتبہ ان کے لئے نتائج بہتر ہوں گے۔ گزشتہ برس نڈال کو عالمی درجہ بندی میں 135 ویں مقام پر فائز ڈارسس کے خلاف شکست برداشت کرنی پڑی تھی جس کے بعد اسپینی ٹینس اسٹار پر شدید تنقید کرتے ہوئے انھیں مشورہ دیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے کریر کو طول دینا چاہتے ہیں تو مستقبل میں گراس کورٹ کے سیزن کو نظرانداز کریں۔ جن افراد نے نڈال کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے گراس کورٹ کے مستقبل کے متعلق فیصلہ پر نظرثانی کریں، ان میں تین مرتبہ کے سابق چمپئن بورس بیکر بھی شامل ہیں جوکہ فی الحال نواک جوکووچ کی کوچنگ ٹیم کا حصہ ہیں۔ بیکر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نڈال کو یہ ضرور فیصلہ کرنا چاہئے کہ گراس کورٹ پر ان کا مستقبل کیا ہے،

کیونکہ دیگر میدانوں کی بہ نسبت گراس کورٹ (گھاس کے میدان) مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں، کیونکہ ان میدانوں پر بہتر مظاہرے کے لئے کھلاڑی کو چست ہونے کے علاوہ قدموں کے استعمال میں اسے کافی تیز ہونا پڑتا ہے جوکہ گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا نڈال کے لئے ہمیشہ ہی مسائل کا باعث ہوتے ہیں۔ جس کھلاڑی کو گھٹنے کی تکلیف کا مسئلہ درپیش ہو، اس کے لئے گراس کورٹ انتہائی مشکل ترین میدان ہوتا ہے، کیونکہ اس میدان پر نہ صرف گیند کی اُچھال زیادہ ہوتی ہے بلکہ گھاس کی وجہ سے پھسلنے کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نڈال جو گزشتہ برس جرمنی کے وارم اَپ ٹورنمنٹ ’ہال‘ سے دستبرداری اختیار کی تھی، وہ اس مرتبہ اس ٹورنمنٹ میں شرکت کے متعلق قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ نڈال نے فرنچ اوپن 2014ء خطاب کے ذریعہ اپنے گرانڈ سلام خطابات کی تعداد 14 کرلی ہے اور اس طرح وہ پیٹ سمپراس کے 14 گرانڈ سلام کے ریکارڈ کی برابری کرلی ہے، تاہم عالمی ریکارڈ راجر فیڈرر کے نام درج ہے جوکہ 17 گرانڈ سلام خطابات کے ذریعہ پہلے مقام پر فائز ہیں اور نڈال کے پاس موقع ہے کہ وہ سب سے زیادہ گران سلام حاصل کرنے والے کھلاڑی بن جائیں۔