فرانس میں مکمل نقاب پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ۔ یواین پینل کے تاثر

جنیوا۔مذکورہ ہیومن رائٹ کمیٹی نے فرانس میں نقاب پر امتناع کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قراردیا اور قانون میں ترمیم کی بات کہی۔فرانس کو اپنا کیس پیش کرنے میں ناکام قراردیتے ہوئے کمیٹی نے پیرس کو 180دنوں کا وقت دیا تاکہ کس طرح کی کاروائی کی گئی ہے اس کے متعلق بتائیں۔

اس میں کہاگیا کہ’’خصوص کر کمیٹی فرانس کے نقاب پر امتناع کے دعوی سے متفق نہیں تھی جس کو سکیورٹی کے لئے ضرور ی قراردینے کی کوشش کی گئی‘‘۔ ائی سی سی پی آر کے اٹھارہ خود مختار بین الاقوامی ماہرین پر پینل مشتمل ہے۔ نقاب پر پابندی کے لزوم کو کمیٹی نے غیر واجبی قراردیا۔

فرانس کے خارجی وزارت کے ایک ترجمان نے قانون جائز‘ ضروری اور مذہبی آزادی کے احترام میں بنایاگیاہے۔ امتناع ایک چہرے چھپانے پر لاگو ہوتا ہے کہ نہ کسی مذہبی لبا س کو پہننے سے روکنے کے لئے امتناع عائد نہیں کیاگیا ہے جس میں صرف چہرے کو چھپانے کی اجازت نہیں ہے ۔

فرانس کے مذکورہ ترجمان نے فرانس کی دستوری عدالت اور یوروپی عدالت برائے انسانی حقوق کی طرف اشارہ کیا جہاں پر پورے چہرے پر پابندی کے قانون پر روک لگائی ہے اور کہاکہ یہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

منگل کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے اس بیان پر اپنی نااتفاقی ظاہر کی او رکہاکہ مذہبی عقائد پر چلنے والی عورتوں کے حقوق پر یہ قانون ایک کار ضرب ہے۔

مذکورہ قانون کے تحت 2010کے قانون کے مطابق 2012میں دوخواتین کو دی گئی سزاء پر شکایت وصول ہونے کی کمیٹی جانچ بھی کررہی ہے۔اپنی تحقیق میں پینل کے مذکورہ دو خواتین کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی فرانس کو مطالبہ کیا۔