فتح دروازہ میں آٹو ڈرائیور کے قتل سے سنسنی

حیدرآباد ۔ 13 اگست (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ فتح دروازہ معین پورہ میں آٹو ڈرائیور کے برسرعام بیدردانہ قتل کی واردات کے بعد علاقہ میں سنسنی و خوف کا ماحول پیدا ہوا۔ 35 سالہ آٹو ڈرائیور محمد امجد ساکن شاہ علی بنڈہ کو رقم کی حوالگی کے بہانے فتح دروازہ طلب کرکے قتل کردیا گیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سعید اور فضل جو رہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور انہیں چادرگھاٹ پولیس نے سابق میں گرفتار کیا تھا، سے مقتول امجد اکثر رقم وصول کیا کرتا تھا اور ادا نہ کرنے پر دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ گذشتہ چند عرصہ سے مقتول امجد، سعید، فضل اور اس کے دو ساتھی جمیل اور شاہ رخ سے مسلسل رقم دینے کا مطالبہ کررہا تھا جس سے مذکورہ افراد عاجز آگئے تھے اور اس کا قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سعید کے بھائی مصطفی نے امجد کو فتح دروازہ مؤمن پورہ میں رقم دینے کے بہانے طلب کیا لیکن وہاں پر پہلے سے ہی سعید اور فضل اس کا انتظار کررہے تھے

اور وہ آٹو میں پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد اچانک دونوں نے چاقو اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کردیا اور کئی ضربات لگائے۔ اس حملہ میں امجد برسرموقع ہلاک ہوگیا۔ قتل کے اس واقعہ کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور خوف کا ماحول پیدا ہوگیا۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر کاماٹی پورہ پولیس کی ٹیم پہنچ کر موقع واردات پر سراغ رسانی دستہ کلوز ٹیم کو طلب کیا اور بعدازاں نعش کو دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ منتقل کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساوتھ زون مسٹر سروا سریش نے بھی موقع واردات پر پہنچ کر وہاں کا معائنہ کیا۔ رات دیر گئے موصولہ اطلاعات کے بموجب امجد کے قتل میں ملوث سعید اور فضل نے خود کو حسینی علم پولیس کے روبرو خودسپردگی اختیار کرلی اور بتایا جاتا ہیکہ دونوں نے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔ کاماٹی پورہ پولیس نے اس سلسلہ میں قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔