کانگریس قائد راجیو شکلا کے ریمارک پر راجیہ سبھا قہقہ زار
نئی دہلی ۔ 14 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں آج بندر کے ذکر نے وہاں موجود ارکان کو قہقہ لگانے پر مجبور کردیا جہاں ایک کانگریسی رکن نے بعض اہم فائلوں کی گمشدگی کیلئے بندروں کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ ایوان میں وزارت داخلہ کی 11,100 فائلوں کی پر اسرار گمشدگی کے موضوع پر سنجیدہ مباحثہ ہورہا تھا جب کانگریس کے راجیو شکلا نے صورتحال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالات اتنے خراب ہیں کہ فائلوں کو عمارت کی راہداری (کاریڈور) میں رکھا جاتا ہے جہاں بندروں کا بول بالا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزے کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں ایک وزیر ایسے ہیں جو بندروں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے مخالف ہیں۔ مسٹر شکلا نے کہا کہ اگر یقین نہ آئے تو منموہن سنگھ جی سے پوچھ لیجئے کہ جس وقت موصوف وزیر مالیات تھے اس وقت کاریڈور سے گزرنا کتنا مشکل تھا ۔ یہ بات سن کر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہوئے منموہن سنگھ بھی اپنی مسکراہٹ روک نہ سکے ۔ شکلا نے کہا کہ یہ ایک عام بات بن گئی ہے کہ کسی بھی فائل کے کھوجانے کا الزام بندروں پر عائد کردیا جاتا ہے اور حکومت سے اپیل کی کہ فائلوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کے بد سے بدتر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نے بندروں کی ہڑبونگ پر قابو پانے کیلئے ’’لنگوروں‘‘ کی خدمات حاصل کی ہیں جس پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے۔