غزہ کا باہمت مچھیرا خالی بوتلوں سے چھوٹی کشتی بنانے میں کامیاب

غزہ پٹی ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی غزہ پٹی کے رفاہ ساحل سے خالی پلاسٹک بوتلوں کو جمع کرتے ہوئے ماہی گیر موات ابوزید بدقت تمام آمدنی کا ذریعہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ چار بچوں کے والد، 35 سالہ ابوزید نے جمع کی گئی خالی بوتلوں کو گوند کے ذریعہ ایک دوسرے سے جوڑ دیا جو مچھلیاں پکڑنے کے قابل ایک چھوٹی سی کشتی (ناؤ) بن گئی جس کی وجہ سے اس کی ’’سطح غربت‘‘ میں تھوڑی سی کمی آئی۔ یہ کشتی نہایت ہی دلکش ہے جو 700 خالی بوتلوں کو جمع کرکے بنائی گئی ہے جس میں 7 تا 8 آدمی سمندر کے اس پار سے اس پار تک سفر کرسکتے ہیں۔ اس کشتی میں بیٹھنے کیلئے لکڑی کا ایک سلاب ڈالا گیا ہے جس پر بیٹھ کر ابو زید چند سو میٹرس تک ساحل سمندر سے سفر کرتے ہوئے مچھلیاں پکڑتا ہے۔ ابوزید جن مشکلات کا سامنا کرتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ اسے 5 تا 7 کیلو مچھلیاں پکڑنے کیلئے بشمول سارڈائن، ملٹ دیگر چھوٹی مچھلیاں اس کے چھوٹے سے لوہے کے راڈ سے، صبر و برداشت سے بھرطور طویل ترین 8 گھنٹے سمندر میں گزارنے پڑتے ہیں جن کی مارکٹ میں فروخت کے ذریعہ 5 تا 11 ڈالرس حاصل ہوتے ہیں۔