نئی دہلی 27 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) غزہ کی صورتحال پر مباحث کے مسئلہ نے راجیہ سبھا کو آج مسلسل دوسرے دن بھی دہلادیا۔ اپوزیشن اِس پر فوری مباحث کا مطالبہ کررہا تھا۔ یہاں تک کہ صدرنشین حامد انصاری نے کہاکہ اِس مسئلہ پر بعدازاں بحث کی جاسکتی ہے۔ اُنھوں نے مباحثہ کی مخالفت کا حکومت کا موقف مسترد کردیا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حامد انصاری نے کہاکہ وہ مرکزی وزیر کی درخواست قبول کرنے سے قاصر ہیں اور اُنھوں نے اِس سلسلہ میں ایوان کے قواعد کے حوالے دیئے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ غزہ کی صورتحال حکومت ہند کی اوّلین فکرمندی نہیں ہے اِس لئے اِس پر مباحث نہیں کئے جاسکتے۔ صدرنشین نے اپنے ایک اور فیصلہ میں قائد ایوان ارون جیٹلی کی درخواست کو قبول کرلیا کہ بحث بعد کی کسی تاریخ پر کی جاسکتی ہے جس کا تعین حکومت کرے گی۔ آج کے ایجنڈہ میں غزہ کی صورتحال کی عدم شمولیت پر اپوزیشن کے ارکان برہم ہوگئے۔ اپنی نشستوں سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور پُرشور انداز میں غزہ پر مباحث کا مطالبہ کرنے لگے۔ ایوان بالا کا اجلاس تین بار ملتوی کیا گیا۔ دو مرتبہ وقفۂ سوالات کے دوران اور ایک مرتبہ وقفۂ صفر کے دوران۔ جب اجلاس کا آغاز ہوا تو کانگریس نے الزام عائد کیاکہ حکومت ایک کے بعد ایک دستوری اداروں کا عدم احترام کررہی ہے
اور اُن کی اہمیت کم کرتی جارہی ہے۔ پہلے حکومت نے عدلیہ کی اہمیت ختم کردی اور اب پارلیمنٹ کی اہمیت ختم کرنے کوشاں ہے۔ کانگریس کے ستیہ ورت چترویدی نے کہاکہ سوال موضوع بحث کا نہیں بلکہ اِس کا ہے کہ کیا ارکان مقننہ کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے عاملہ کسی مسئلہ پر مباحث کی مخالفت کرسکتا ہے۔ سی پی آئی ایم کے پی راجیو نے غزہ پٹی میں تشدد پر مختصر مدتی مباحث کا مطالبہ کیا اور کہاکہ اِس پر وقفۂ سوالات کے دوران ہی مباحث ہونے چاہئے۔ جنتادل (یو) کے شرد یادو نے کہاکہ مباحث کا التواء ہندوستان کے مغربی ایشیاء کے ساتھ صدیوں قدیم معاشی اور سماجی تعلقات کے بارے میں غلط اشارے دے گا۔ اُنھوں نے فوری مباحث کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ نے مطالبہ کیاکہ بامعنی مباحث ہونے چاہئے۔ اُنھوں نے اظہار حیرت کیاکہ آخر حکومت اِس سے اتفاق کیوں نہیں کررہی ہے۔
سی پی آئی (ایم) کے سیتارام یچوری نے کہاکہ مسئلہ کل کے ایجنڈہ میں شامل تھا لیکن ترمیم شدہ فہرست میں حکومت کی مرضی کے بغیر تیار کی ہوئی فہرست سے اِس کو حذف کردیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ پوری دنیا اِس مسئلہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم نریندر مودی بھی غزہ پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے بریکس اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ترنمول کانگریس کے ایس ایس رائے نے کہاکہ وزیر خارجہ کا اعتراض نامناسب اور ناقابل قبول ہے۔ موضوع پر مباحث کا جواز موجود ہے۔ بی جے پی کے وجئے گوئل نے اپوزیشن کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اِس مسئلہ پر مباحث سے فرار نہیں حاصل کررہی ہے بلکہ صرف بعدازاں مباحث کرنا چاہتا ہے۔شوروغل کے دوران حامد انصاری نے ایوان کا اجلاس دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا۔