غزہ میں پانی کی قلت‘ بارش نہ ہونے سے اور شدید ہوگئی

غزہ سٹی۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ ہزاروں فلسطینی پانی کی قلت کی وجہ سے نہانے کے لئے کافی پانی حاصل نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے انھیں ایک ایک ماہ تک نہانے کا موقع نہیں ملتا۔ شدید گرمی جس میں درجہ حرارت 34 درجہ سیلسیس ہوگیا ہے، 2 لاکھ 18 ہزار پناہ گزین اقوام متحدہ کے زیر انتظام 87 اسکولس میں پناہ گزین ہیں تاکہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کا شکار ہونے سے بچ سکیں جس کا آغاز 8 جولائی کو ہوا۔ پانی نہیں ہے، بیت الخلاء انتہائی گندے ہوچکے ہیں، زندگی مصائب کا شکار ہے۔ تقریباً 50 افراد بشمول بچے اسرائیل کی بمباری سے بچنے کے لئے اپنے مکانوں سے فرار ہوگئے تھے، انھیں اب پانی حاصل کرنے کے لئے روزانہ جدوجہد کا سامنا ہے۔

حماس زیر قبضہ علاقہ میں اسرائیل کی ناکہ بندی 2006ء سے جاری ہے۔ امریکہ کے بموجب 3 لاکھ 65 ہزار فلسطینی غزہ میں بے گھر ہوچکے ہیں۔ حماموں میں بھی پانی نہیں ہے۔ وہ اتنے گندے ہوگئے ہیں کہ کوئی اندر داخل بھی نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگ پانی کی بوتلیں استعمال کرتے ہیں جو اسکول میں دی جاتی ہیں۔ بعض لوگوں کو جن کے بچے اسکول نہیں جاسکتے، انھیں ایسی بوتلیں بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ وزارت صحت غزہ کے ترجمان اشرف القدرہ نے کہا کہ جلدی امراض، جلد پر چکتے اُبھر آنا اور کھجلی پناہ گزینوں میں وباء کی طرح پھیل گئی ہے۔ بچوں میں کئی افراد پیچش کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کی راحت رسانی ایجنسی کے ترجمان عدنان ابوحسنہ کے بموجب فلسطینی پناہ گزینوں نے کہا کہ پناہ گزین کیمپوں میں پانی کی قلت ہے۔ پورے ملک میں کئی افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے قلت میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔